انوارالعلوم (جلد 6) — Page 346
کے متعلق کیا تعلیم دیتے ہیں اور اس بارے میں ان کی تعلیم کہاں تک درست یا غلط ہے۔چونکہ اس وقت مسیحیت کا غلبہ ہےپہلے میں اسی مذہب کے خیالات کو بیان کرتا ہوں۔مسیحیوں کا عقیدہ ہے کہ ایک خدا کی تین شاخیں ہیں (۱) خدا باپ (۲) خدا بیٹا(۳) خدا روح القدس اور پھر یہ تینوں مل کر ایک بھی ہیں۔پھر صفات کے متعلق انکا خیال یہ ہےکہ خدا کی خاص صفات مین سے ایک صفت عدل کی ہے اور وہ خیال کرتے ہیں کہاگر وہ عادم نہ ہو تو ظالم قرار پائے گا۔لیکن ظالم ہونا خدا کے لئےمحال ہے پس اس کے عدل میں کسی صورت میںفرق نہیں آسکتا۔اب چونکہ دنیا میں عموماً اور مسیحی دنیا میں خصوصاً گناہوں کا سلسلہ نظر آتا ہےجسےدیکھتےہوئے نجات بالکل ناممکن نظر آتی ہے کیونکہ اپنےعمل سے انسان نجات نہیں پاسکتا اور خدا کا عدل چاہتا ہے کہ گناہ کی سزا دے پس نجات کی صورت وہ یہ پیش کرتے ہیں کہ خدا نے جب دیکھا کہ میرا عدم بنی نوع انسان کی نجات کی راہ میں روک ہے تو اس نے اپنے اکلوتے بیٹے کو انسان کی شکل میں دنیا میں بھیجاتا کہ وہ لوگوں کے گناہ اُٹھا لے۔چنانچہ حضرت مسیحؑخدا کے بیٹے ہی تھے جو انسانی شکل میں ظاہر ہوئے اور باوجود بے گناہ ہونے کے بنی نوع انسان کے گناہ اُٹھا کر صلیب پر لٹکائے گئے۔اب جو کوئی ان کے اس طرح کفارہ ہونے پر ایمان لائے وہ نجات پا جائے گا کیونکہ مسیح اس کا کفارہ ہوگئے ہیں اوراب بغیر اس کے کہ خدا کے عدل میں فرق آئے وہ لوگوں کو نجات دے سکتے ہیں۔عیسائیوں کے عقیدہ کے مطابق خدا پر اعتراض مگر اس عقیدہ کے مطابق خدا پر کئی الزام عائد ہوتے ہیں۔گو زبان سے خدا کو رحیم رحیم کہیں لیکن اگر اسکے متعلق یہ مانیں جو عیسائی کہتے ہیں تو اسکے یہ معنی ہوئے کہ گناہ کرنےکے بعد خواہ کوئی کتنی التجائیں کرے ناک رگڑے خدا اس کی درخواست کو ردّ کردےگا کیونکہ وہ اس کا گناہ معاف نہیں کرسکتا۔اب اگر خدا رحیم ہے اور ہم سے زیادہ رحیم تو جب ہم دیکھتے ہیں کہ اگر کو ئی ہمارا قصور کرکے ہم سے رحم کی التجا کرتا ہے تو ہم اسے معاف کردیتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ خدا معاف نہیں کرتا یہ کہنا کہ اس سے اس کے عدل میں فرق آتا ہے بالکل باطل ہے کونکہ جب ہم کسی کو معاف کرسیتے ہیں تو کیا ہماری نسبت یہ کہا جاتا ہے کہ ہم عادل نہیں ہیں۔اگر باوجود رحم کے ہم عادل کےعادل ہی رہتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ اگر رحم کرے تو وہ عادل نہیں رہتا۔مسیحیت کو سب سے زیادہ اس بات پر ناز ہے کہ اس میں خدا کو