انوارالعلوم (جلد 6) — Page 22
دربار میں جب مسلمان پیش ہوئے اورانہوں نے صفائی سے اپنے عقائد بتائے تو کفّار کو مجبوراًواپس آنا پڑا۔لیکن ابھی مصائب کا خاتمہ نہیں ہوگیا۔آپ کو پھر تکالیف پہنچائی گئیں۔اورآپ نے حضرت ابوبکرؓ کو ساتھ لے کر مکّہ سےہجرت کی۔پھر کفار نے پیچھا کیا۔مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کی حفاظت کی۔اس حالت میں کون کہہ سکتا تھا کہ جس کے چند ساتھیوں کی جمیعت بھی منتشر ہوگئی اور جس کو وطن سے بے وطن ہونا پڑا۔وہ کبھی غالب ہوگا۔جب آپ مدینہ میں پہنچے تو ان لوگوں نے وہاں بھی آرام نہ لینے دیا۔بار بار چڑھ کر گئے۔چنانچہ ایک دفعہ جنگ احزاب میں دس ہزار کی جمیعت لیکر مدینہ پر چڑھ آئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ کے اردگرد خندق کھودنا پڑی۔صحابہ کےساتھ آپ بھی خندق کی کھُدائی کے کام میں شریک تھے۔احادیث و تاریخ سے ثابت ہے کہ جب آپ نے کدال چلائی اورایک پتھر پر لوہا پڑا اور اس میں سے شعلہ نکلا تو آپ نے بلند آواز سے کہا اللہ اکبر ! صحابہؓ نے بھی اللہ اکبر کا نعرہ لگایا۔دوسری دفعہ آپ نے کدال ماری اورپھر شعلہ نکلا۔پھر آپ نے بلند آواز سے کہا اللہ اکبر اور صحابہ ؓ نے بلند آواز سے اللہ اکبر کہا۔تیسری دفعہ پھر آپ نے کدال چلائی او ر شعلہ نکلا آنے زور سے اللہ اکبر کہا اور صحابہ ؓ نے بھی کہا۔پھر آپ نے صحابہ سے پوچھا کہ تم نے کیوں اللہ اکبر کہا۔صحابہؓ نے عرض کیا کہ چونکہ حضور نے اللہ اکبر کہا تھا اس لئے ہم نے بھی کہا ورنہ ہم نہیں جانتے کہ کیا بات ہے۔اللہ اوراس کے رسول خوب جانتے ہیں۔آپ نے فرمایا جب مَیں نے پہلی دفعہ کدال ماری اور شعلہ نکلا تو مجھے دکھایا گیا کہ مجھے قیصر کے ملک پر فتح حاصل ہوئی اور دوسری دفعہ معلوم ہوا کہ کسریٰ کے ملک پر اور تیسری دفعہ حیرہ کے بادشاہوں کی حکومت زیروزبر ہوتی دکھائی گئی٭جب آپ نے یہ فرمایا تو منافقین اور مخالفین نے ہنسنا شروع کردیا کہ یہ عجیب لوگ ہیں کہ پاخانہ پھرنے کی توان کو اجازت نہیں اور کہا یہ جارہا ہے کہ قیصر و کسریٰ کی سلطنتیں ہمیں ملیں گی اور ہم ان پر قابض ہونگے۔لیکن ان کی ہنسی جھوٹی ثابت ہوئی اور خدا کی بات پوری ہوئی اور اس سے ثابت ہوگیا کہ اسلام سچّا ہے اور اس کی یہ دلیل ہے کہ یہ جن گھروں میں ہے وہ بلند کئے جائیں گے چنانچہ ایسا ہی ہوا۔خدا تعالیٰ نے سورہ احزاب میں مسلمانوں کی حالت کا نقشہ یہ کھینچا ہے کہ زمین باوجود فراخی کے ان کے لئے تنگ ہوگئی تھی اور دُنیانے فیصلہ کر لیا تھا کہ مسلمان اب پِس جائیں گے۔اس وقت خدا ان کو بشارت دیتا ہے کہ تم مخالفین کو پیس دوگے۔اور دنیا کی حکومت تمہاری ہی ہوگی۔چنانچہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے عہدِ مبارک میں شام فتح ہوا۔یہ ترقی اور یہ شان اور ادنیٰ حالت سے بلندی پر قدم کا *فتح الباری جلد ۷ ص ۳۹۷