انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 337 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 337

مجھے تو اس میں کوئی حرج معلوم نہیں ہوتاحالانکہ یہ وہ فعل ہے کہ جسے دہریہ بھی بُرا سمجھتے ہیں۔کیا خدا کے ماننے سےاعلیٰ اخلاق کا معیار گر جاتا ہے؟ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ خدا کےماننے سے اخلاق کا معیار گرجاتا ہے۔کیونکہ خدا کو ماننےوالا نیکی اس لئے کرتا ہے کہ خدا سے کچھ اُمید رکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اگر مَیں نےنیکی کی تو خدا مجھے انعام دے گا۔لیکن خدا کو نہ ماننےوالا نیکی کو نیکی سمجھ کر کرتا ہے نہ کہ کسی لالچ کی وجہ سے۔اسی طرح خدا کو ماننے والا خدا کے ڈر کی وجہ سے بُرائی کو چھوڑتا ہے لیکن نہ ماننے والا بُرائی کو بُرائی سمجھ کر چھوڑتا ہے اور نیکی کو نیکی سمجھ کر کرنا اوربُرائی کو بُرائی سمجھ کر چھوڑنا بہ نسبت لالچ سے نیکی کرنے اور ڈر سے بُرائی کو چھوڑنے کے بہت اعلیٰ ہے۔ہم کہتے ہیں نیکی کی حقیقی تعریف یہ ہے کہ وہ اس عمل یا خیال کا نام ہے جو ایک کامل اور بے عیب ذات سے مشابہت پیدا کرتا ہو اور بدی اس فعل یا خیال کا نام ہے جو اس کامل اور بے عیب ذات کی پسندیدگی یا فعل کے خلاف ہو۔اس کامل نمونہ کی مشابہت یا مخالفت کو مد نظر رکھے بغیر نیکی کی کوئی تعریف ہو ہی نہیں سکتی۔اگر ایسا کامل نمونہ ہی موجود نہیں ہے تو پھر نیکی بدی کی مکمل تعریف بھی ناممکن ہے۔نیکی کیا ہے؟ جولوگ خدا تعالیٰ کے ماننے والے نہیںیا جو لوگ خدا تعالیٰ کے وجود کو معرض بحث میں لانےکے بغیر اخلاق کی بحث کا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں وہ نیکی کی تعریف میں اختلاف رکھتے ہیں۔بعض کہتے ہیں کہ نیکی وہ عمل ہے کہ جس سے سب سے زیادہ خوشی حاصل ہو اور جو انہی حالات میں اتنی خوشی نہ پیدا کرے وہ بدی۔دوسرے کہتے ہیں کہ خوشی کے کیا معنے ہیں؟ ایک شخص ڈاکہ مارتا ہے وہ اسی پر خوش ہوتا ہے مگر ڈاکہ ڈالنا نیکی نہیں۔اس لئے نیکی کی یہ تعریف درست نہیں اس کی اصل تعریف یہ ہےکہ جس بات سے سب سے زیادہ نفع پہنچے وہ نیکی ہے اور انہیں حالات میں جن امور میں کم نفع پہنچے یا نقصان پہنچے وہ بدی ہے۔مگر اس پر یہ سوال پڑتا ہے کہ کس کو نفع پہنچے ؟ اگر دوسروں کو تو جب کوئی مال لُوٹنے لگے تو کیا اسے روکنا نہیں چاہئے۔بلکہ کہنا چاہئے کہ جس قدر لے جاسکتے ہو لے جائو۔کیونکہ مال سے اس کو فائدہ پہنچے گا اور یہ نیکی ہے۔اس پر کہتے ہیں نیکی وہ ہے جس سے اپنی ذات کو زیادہ نفع پہنچے اور بدی وہ ہے جس سے اپنی ذات کو نقصان پہنچے۔مگر اس تعریف سے تو وہی اعتراض منکرین خدا پر عائد ہوگیا جو وہ خدا کو