انوارالعلوم (جلد 6) — Page 176
دھریں۔وہ خود دعوت مسنونہ کےرد کرنےکےمجرم ہیں۔اور ان کے اس فعل کےبعد ہم پر ہر گزواجب نہیں ہے کہ ہم ان کی دعوت قبول کریں۔ان کی دعوت کا قبول کرنا اب نے غیرتی ہے اور مومن بے غیرت نہیں ہوتا۔مَیں نے تو مدّت تک چاہا کہ ان لوگوں سے تعلقات قطع نہ ہوںاور یہ لوگ راستی کی طرح آویں۔مگر مولوی صاحب نے شروع میں افتراق اور فساد میں اپنا فائدہ دیکھا۔قادیان کو چھوڑ کر چلے گئے اوراپنی الگ انجمن بنالی۔اورمجھ پر طرح طرح کے اتہام لگائے اس کے بعد ان کا کیا حق ہے کہ وہ ہم سے میل جول کی درخواست کریں۔اوّل تو خلافت کا انکار کرکے اور جماعت کو فتنہ میں ڈال کر مولوی صاحب اوران کے وہ ساتھی جو بانی فساد ہیں شرعاً اس امر کے مستحق تھے کہ ان سے قطع تعلق کیاجائے٭اوربالکل ان سے علیحدگی اختیار کی جائے۔مگر جبکہ ان سے خاص رعایت کرکے ہم نے چاہا کہ ان سے میل جول کریں تو انہوں نے صاف انکار کردیا۔اور باوجود بار بار کی درخواست کے ہماری دعوت کو رد کردیا۔اوراب اُلٹے ہم پر الزام لگاتے ہیں۔قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل کی تحریرمولوی محمد علی صاحب کے مفید مطلب نہیں مولوی صاحب اوران کے رفقاء اس الزام کی تائید میں مکرمی قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل کے ایک مضمون کا حوالہ دیا کرتے ہیں۔جس میں انہوں نے خواجہ صاحب کی آمد پر ان سے ہوشیار رہنےکے لئے جماعت کو توجہ دلائی تھی۔مگر ان کو یاد رکھنا چاہئے کہ اوّل تو یہ مضمون میرا نہیں بلکہ میری جماعت کے لوگوں میں سے ایک شخص کا خیال ہے۔دوم یہ کہ قاضی صاحب تو عام احمدیوں کو رئیس المفسدین کے متعلق ایک نصیحت کرتے ہیں۔عام مبائعین اور غیر مبائعین کے تعلقات یا دونوں فریق کے سر بر آوردوں کے آپس کے تعلقات کے متعلق کہا ذکر کیا گیا ہے۔چنانچہ خود قاضی صاحب موصوف مولوی صاحب سے ملنے کے پیغام بلڈنگس میں گئے تھے۔مگر مولوی صاحب نے ان کی طرف بالکل توجہ نہ کی اور اکرام ضیف کا بھی خیال نہ رکھا۔مگر قاضی صاحب کا مضمون عام ہوتا تو وہ خود کیوں مولوی صاحب کو ملنے جاتے۔اصل بات یہ ------------------------------------------------------------------------------------ ٭ صحابہ ؓکا فتویٰ ہے کہ جو شخص خلافت کے بالمقابل کھڑا ہوتا ہے اس سے قطع تعلق کیاجاوے۔حضرت ابوبکرؓ کی بیعت کے وقت جب بعض انصارؓ نے سعد بن عبادہ کو دوسرامام پیش کیا اور صحابہؓنے دو امام تسلیم نہ کئے۔تو سعد نے بیعت سے احتراز کیا۔گو احکام خلافت کے قبول کرنےسے انہوں نے کبھی انکار نہیں کیا۔اس پر حضرت عمرؓنے ان کے متعلق فرمایا کہ اُقْتُلُوْا سَعْدًا۔یعنی سعد سے قطع تعلق کرو۔چنانچہ صحابہ ؓ ان سے بالکل تعلق نہیں رکھتے تھے۔(سیرت ابن ہشام عربی جلد ۴ صفحہ ۳۱۰مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء)