انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 175 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 175

ثابت کرچکا ہوں۔مگر ہمارے پاس دلیل ہے کیونکہ علاوہ قرآن کریم کے صاف ارشاد کے حضرت خلیفۃ المسیح علی الاعلان اپنے نہ ماننے والوں پر فاسق کا فتویٰ لگا چکے ہیں۔اورآپ لوگ ان کی بات کو تسلیم کرنےکا دعویٰ کرتے ہیں۔تاریخ اختلاف سلسلہ کا بارہواں امر بارہویں بات اختلاف سلسلہ کے متعلق مولوی صاحب نے یہ تحریر فرمائی ہے کہ مَیں نے ایک تدبیر ایسی کر رکھی ہے کہ جس کی وجہ سے جماعت کو اندھیرے میں رکھا ہے اور کہہ دیا ہےکہ کوئی احمدی ان سے تعلق نہ رکھے۔ان کے ساتھ مل کر کھانا نہ کھائے اور نہ ان سے کوئی دوستانہ گفتگو کرے اور نہ ان کی شائع کردہ کتاب یا رسالہ پڑھے اور اس وجہ سے میرے متبع ان دلائل سے ناواقف ہیں جن کے ذریعہ سے میرے ان عقائد کی جو مسیح موعودؑ کے مخالف ہیں تردید کی جاتی ہے۔یہ آخری کڑی مولوی صاحب کے بیان کردہ واقعات اختلاف سلسلہ کی بھی ویسی ہی کمزور اور جعلی ہے جیسی کہ پہلی۔کیونکہ مَیں نےکبھی کسی مبائع سے نہیں کہا کہ وہ غیر مبائعین سے دوستی نہ رکھے اوران سےمل کر کھاوے نہیں اورنہ ان کی کتاب پرھے۔یہ ایک جھوٹ ہے جو مولوی صاحب نے مجھ پر باندھا ہے۔اس کے بر خلاف میں دیکھتا ہوں کہ ۱۹۱۵؁ءمیں جب عزیزم عبدالحی مرحوم (ولد حضرت خلیفہ اوّل) کی وفات پر مولوی صاحب معہ چند رفقاء کے یہاں تشریف لائے تو مَیں نے ان کی دعوت کی اور مولوی شیر علی صاحب کو بھیجا کہ وہ ان کو بلالائیں بلکہ اس سے بھی پہلے اسی سال میں مجھے لاہور برائے علاج جانے کا اتفاق ہوا۔تو میرے مبائعین میں سے بعض نے مولوی صاحب اور ان کے رفقاء کی دعوت کی مگر انہوں نے انکار کردیا۔پھر ایک دفعہ شیخ رحمت اللہ صاحب قادیان تشریف لائے اور سیدھے مقبرہ بہشتی کو چلے گئے۔مجھے کسی نے اطلاع دی۔مَیں نے ان کے بُلانے کے لئے آدمی بھیجے اورپھر خود بھی گیا اوران سے ملا اوران سےٹھہرنے کے لئے کہا۔لیکن بوجہ ضروری کام کے انہوں نے عذر کیا۔اسی طرح ہماری جماعت کے لوگ جہاں جہاں غیر مبائعین پائے جاتے ہیں ان سے ملتےرہتے ہیں۔مگر بعض لوگ متفنی ہوتے ہیں اور شرارت پر آمادہ رہتے ہیں اور دھوکا دہی ان کا کام ہوتا ہے اور فساد کی وہ جستجو میں رہتے ہیں اور بد عقیدگی کے بانی اور اختلاف کے محرّک ہوتے ہیں۔ایسے لوگوں سے بیشک میری جماعت کے لوگ کنارہ کرتے ہیں اورایسے لوگوں سے اپنی جماعت کے لوگوں کا ملنا بیشک میں نا پسند بھی کرتا ہوں مگر مجھے نہیں یاد کہ میں نے کبھی اس مضمون کا اعلان کیا ہو۔اورجبکہ مولوی محمد علی صاحب خود ہماری دعوت کو رد کرچکے ہیں تو پھر ان کا کیا حق ہے کہ وہ ہم پر الزام