انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 115 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 115

نے کیا انہوں نے غیر احمدیوں کے پیچھے نماز ادا کی۔اور حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی زندگی میں جن لوگوں نے پہلے حج کیا تھا وہ بھی ایسا ہیکرتے رہے۔جب یہ خبر حضرت خلیفۃ المسیح کو ملی تو چونکہ آپ سخت بیمار تھےا ٓپ نے مجھے اس امر میں جماعت کو ہدایت کرنےکا کام سُپرد کیا اور کچھ نوٹ لکھوائے۔۷ -اورایم محمود کو متنبہ کیا کہ کفر وا سلام کا مسئلہ وہ صحیح نہیں سمجھا۔۸ -چناچنہ میں نے وہ مضمون لکھا اور مولوی صاحب کو پڑھ کر سُنایا جنہوں نے اسے پسند کیا۔مگر یہ پمفلٹ گو لکھا گیا تھا مگر آپ کی زندگی میں شائع نہ ہوسکا۔۹ -لوگوں نے غلطی سے ان کو خلیفہ تسلیم کرلیا تھا۔اوراب بہت سے لوگ کُھلے طور پر اس کی تعلیم سے مخالفت کا اظہار کررہے ہیں اور مولوی محمد احسن صاحب نے جو حضرت مسیح موعودؑ کے سب سے پُرانے اور سب سے زیادہ عالم صحابی ہیں اور جنہوں نے ۱۹۱۴ء میں ایم محمود کی بیعت کی تھی ۱۹۱۶؁ءمیں ایک ہینڈبل شائع کیا کہ ایم محمود اس عہدہ کے قابل نہیں جس کے لئے اس کا انتخاب کیا گیا ہے۔کیونکہ وہ غلط عقائد کی اشاعت کر رہا ہے۔اوّل یہ کہ ان کے عقیدہ کی رُو سے تمام اہلِ قبلہ کلمہ گو کافر ہیں۔دوم :-حضرت مسیح موعودؑ کا مل اور حقیقی نبی ہیں نہ کہ جزوی نبی یا محدث۔سوم:پیشگوئی مذکورہ سورہ صَف متعلق بشارتِ احمد ؑ صرف مسیح موعود ؑ کے متعلق ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نہیں ۱۰ - صرف عالم سیّد ہی نے ایسا اعلان نہیں کیا بلکہ بہت سے تعلیم یافتہ احمدیوں نے اس سے پہلے اخبار پیغام صلح میں ایسے اعلان شائع کئے۔اوران کے علاوہ اور تعلیم یافتہ لوگ بھی اس غلطی کو محسوس کر رہے ہیں جس میں احمدیہ جماعت کو ڈالا جارہا ہے اور ان کی ان تعلیمات سےمخالفت روز بروز نمایا ں ہورہی ہے۔۱۱ -مگر ایک قدم ایم محمود نے شروع میں ایسا اُٹھایا ہے کہ جس کی وجہ سے جماعت کو اندھیرے میں رکھا ہوا ہے اور وہ یہ کہ انہوں نے ہماری نسبت فاسق کا فتویٰ دیدیا ہے اور یہاں تک کہہ دیا ہے کہ کوئی احمدی ان سے تعلق نہ رکھے یہاں تک کہ ان کے ساتھ مل کر کھانا تک نہ کھائے اور نہ ان سے کوئی دوستانہ گفتگو کرے اور نہ اسکی شائع کردہ کو فی کتاب یا رسالہ پڑھے اور اس طرح ان کو متبع ان دلائل سے ناواقف ہیں جن کےذریعہ سے ان کے عقائد کی جو مسیح موعودؑ کے مخالف ہیں۔تردید کی جاتی ہے۔یہ گیارہ امر ہیں۔جو اختلاف کی تاریخ کے متعلق مولوی صاحب نے تحریر فرمائے ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ مذہبی حصہ کے بیان کرنے سے پہلے میں ان کے متعلق کچھ تحریرکردوں۔تاکہ ان لوگوں کو