انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 60 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 60

طاعون کی پیشگوئی پھر اعتراض کرتے ہیں کہ مرزا صاحب نے پیشگوئی کی تھی کہ قادیان میں طاعون نہیں پڑیگی۔یہ سراسر جھوٹ ہے۔حضرت صاحب نے کبھی اور کہیں یہ پیشگوئی نہیں کی کہ قادیان میں طاعون نہیں پڑیگی۔وہ اس کا ثبوت دیں اور وہ الہام پیش کریں ہاں حضرت صاحب نے یہ پیشگوئی فرمائی کہ میرے گھر میں طاعون نہیں آئیگی اور میرے گھر میں کوئی طاعون کا کیس نہیں ہوگا۔در آنحالیکہ آپ کے گھر میں سوکے قریب مرد وزن رہتے تھے۔مگر ایک دفعہ بھی آج تک اس گھر میں طاعون کا کیس نہیں ہوا حتّٰی کہ چوہا بھی نہیں مرا اورآپ کے مکان کے گرد اس طرح طاعون پھیلتی رہی ہے جس طرح جنگل میں آگ اور اس گھر میں جس میں مَیں اس وقت تقریر کر رہا ہوں طاعون پڑی اور اس سے موتیںہوئیں مگر آپ کا گھر جو اس س دیوار بدیوار ملحق ہے ہر طرح محفوظ رہا اور محفوظ ہے۔مدعی کی پرکھ کیلئے تین باتیں درکار ہیں پس یہ اعتراض لغو ہیں اوران کی کوئی حقیقت نہیں۔ہاں اُصولًا طے ہونا چاہئے کہ کسی مدعی کی صداقت کے معلوم کرنے کے لئے قرآن ِ کریم کیا معیار پیش کرتا ہے اور وہ کونسی باتیں ہیں جو سچّے مدعی میں پائی جانی چاہئیں۔مَیں اس جگہ تین موتی موتی باتیں جو قرآن کریم نے اُصول کے طور پر ہر ایک مدعی کے صدق یا کذب کے معلوم کرنے کے متعلق پیش کی ہیں بیان کرتا ہوں :- (۱) ماضی کے متعلق (۲) حال کے متعلق (۳) مستقبل کے متعلق۔جس میں یہ تین باتیں اچھی ہونگی وہ صادق اور راست باز ہوگا۔مدعی کا ماضی اول ماضی کے متعلق قرآنِ کریم فرماتا ہے کہ فَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُـرًا مِّنْ قَبْلِہٖ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ (یونس:۱۷)فرمایا کہ تم ایک مُدعی کے دعویٰ سے پہلے کی زندگی کی طرف دیکھو۔فرمایا کہ محمد رسولِ اللہ نے تم میں چالیس سال تک زندگی بسر کی کیا اس چالیس سال کے لمبے زمانہ میں جس میں جوانی کی اُمنگوں کا زمانہ بھی شامل ہے کوئی اس کی زندگی پر اعتراض کیا جاسکتا ہے۔پس جب جوانی ور جوشوں اور اُمنگوں کے زمانہ میں اس نے انسانوں پر جھوٹ نہیں بولا تو کیا بڑھاپے میں وہ خدا پر جھوٹ بولے گا بلکہ اب تک تم اس کو ’’اَلْاَمِیْنُ‘‘ کے لقب سے ہی یاد کرتے رہے۔پس اب جبکہ کل تک تم اس کو صادق اور راست باز بتاتے تھے یہ کیا ہوگیا کہ یہ صبح کو بگڑگیا اور راتوں رات اس کی قلب ماہیت ہوگئی۔ہر ایک بدی بتدریج پیدا ہوتی ہے یہ کبھی نہیں ہوتا کہ ایک شخص رات کے وقت صادق سوئے اور صبح کو بدترین جھوٹ کا مرتکب ہوکر پہلے تو انسانوں پر بھی