انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 58 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 58

انہوں نے بھی اپنی بہن ہی سے نکاح کیا(نعوذ باللہ من ذالک) چونکہ ان لوگوں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کی تھی۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بہت رنج ہوا اور آپ نے اس امر میں خدا تعالیٰ کی طرف توجہ فرمائی۔اورالہام ہوا کہ اس گستاخی کی سزا میں اب ان کے لئے یہ بات مقرر کی جاتی ہے ک یہ اس لڑکی کا رشتہ آپ سے کریں اوراگر نہ کرینگے تو پھر اس اس طرح کا عذاب نازل ہوگا اور اسی وقت یہ الہام بھی ہوا۔تُوْبِیْ تُوْبِی فَاِنَّ الْبَلَآءَ عَلٰی عَقِبِکِ۔اے عورت توبہ کر توبہ کر کیونکہ بلا تیرے پیچھے آرہی ہے۔یہ پیشگوئی رسول کریمؐ کی عظمت کےاظہار کے لئے کی گئی۔مگر مولوی خوش نہیں کہ آپ کی عظمت ظاہر ہو۔یہ تب کوش ہوتے ہیں اوران کے سینوں میں تب ٹھنڈک پڑتی ہے جب رسول کریمؐہی کی ہتک ہو۔غرض جب یہ معاملہ ہوا اس وقت حضرت نے پیشگوئی شائع فرمائی کہ اگر یہ نکاح مجھ سے نہ ہوا تو اس لڑکی کا والد تین سال میں اور جس سے نکاح ہوگا ڈھائی سال میں فوت ہونگے۔چنانچہ نکاح کے چند ماہ بعد احمد بیگ مرگیا اور اس کے مرنے سے تمام خاندان میں کُہرام پڑگیا اور مرزا سلطان محمد پر بھی خوف طاری ہوگیا اور اس نے آپ کی ہتک میں کوئی حصہ نہیں لیا۔اب جب اس پر خوف طاری ہوا اوراس نے اس طریق ہتک سے بالکل علیحدگی رکھی جس میں دوسرے لوگ خاندان کے حصہ لے رہے تھے بلکہ یہ لکھا کہ مَیں مرزا صاحب کو نیک اورخادمِ اسلام سمجھتا ہوں تو پھر خدا اس کو کیوں سزا دیتا پیشگوئی کی غرض ان میں خدا کا خوف پیدا کرنا اوران خیالات ہندوانہ سے توبہ کرانا تھی جن میں وہ مبتلا تھے اور یہ بات پیشگوئی کے بعد حاصل ہوگئی۔لڑکی کا باپ جس نے مخالفت سے تبہ نہ کی ہلاک ہوگیا لڑکی کاخاوند خائف ہوا اور حضرت مسیح موعودؑ کے متعلق اظہار حسن ظنی کرتا رہاپھر سب سے بڑھ کر یہ کہ جن لوگوں نے یہ کہا تھا کہ اس قسم کے رشتوں کا آپس میں نکاح نہیں ہوسکتا انہوں نے اپنے خیالات کو ایسا چھوڑا کہ اپنی ایک لڑکی حضرت مسیح موعودؑ کے ایک بیٹے کو(جو ان سے وہی رشتہ رکھتی تھیں جو محمدی بیگم حضرت مسیح موعودؑ سے)بیاہ دی۔جب حالات ایسے بدل گئے اور جب وہ لوگ جو مخالفت کر رہے تھے ڈر گئےتوپھر کوئی وجہ نہ تھی کہ ان کو عذاب ملتا اوراس کو کوئی جھوٹ نہیں کہہ سکتا۔اگر باوجود اصلاح کرنے کے سزا ملے تو یہ اندھی نگری چوپٹ راجہ والا معاملہ ہوگا۔جن لوگوں نے ان میں سے سرکشی کی وہ سب ہلاکت اور عذاب میں گرفتار ہوئے۔اس پیشگوئی کا ایک حصہ یہ بھی تھا کہ مَیں اس گھر کو (جس میں آج تقریر ہورہی ہے ) بیوائوں سے بھر دونگا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔اگروہ لوگ زندہ ہوتے تو ہمیں یہاں لیکچر کا موقع کیسے ملتا۔