انوارالعلوم (جلد 6) — Page 444
کی رب العٰلمین والی صفت مخفی تھی اسی طرح بندہ کی مالکیت یوم الدین والی صفت مخفی ہوتی ہے یہ مالکیت ایسی ہے کہ اسے کوئی بادشاہ بھی نہیں چھین سکتا اور اس کا نام حریت ضمیر ہے۔بادشاہ مال چھین سکتے ہیں۔جائیدادیں چھین سکتے ہیں۔وطن سے نکال سکتے ہیں لیکن باوجود اس کے اس حججی کی صفت کو نہیں چھین سکتے۔اگر پھانسی پر بھی چڑھا دیں گے تو اس وقت بھی پھانسی پر چڑھنے والے کا دماغ کام کر رہا ہو گا اور فیصلہ کر رہا ہوگا کہ یہ بادشاہ ظالم ہے یا انصاف کے ماتحت اسے پھانسی دے رہا ہوگا اور فیصلہ کر رہا ہوگا کہ یہ بادشاہ ظالم ہے یا انصاف کے ماتحت اسے پھانسی دے رہا ہے۔یہ صفت درحقیقت خدا تعالیٰ کا ایک جلوہ ہے جو انسان میں پایا جاتا ہے۔اب یہ تو معلوم ہوگیا کہ خدا نے انسان کو مٰلک یوم الدین بنانے کی طاقت اس میں رکھی ہے مگر اس پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ بات تو مؤمن و کافر سب میں پائی جاتی ہے پس یہ سیر فی اللہ کا زینہ کس طرح بن سکتی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ طاقت لقاء تو سب میں رکھی گئی ہے ہاں سیر کے لئے اس طاقت کو خاص طور پر استعمال کرنا پڑتا ہے اور چونکہ لقائے الٰہی خدا تعالیٰ کی صفات کی مشابہت سے حاصل ہوتا ہے اس لئے سیر فی اللہ کے لئے ضروری ہوگا کہ سب سے پہلے انسان اس ججی کی مخفی طاقت کو اسی طرح استعمال کرے جس طرح کہ خدا تعالیٰ اپنی صفت مالکیت کو استعمال کرتا ہے۔خدا تعالیٰ کی صفت مٰلک یوم الدین کس طرح عمل کرتی ہے؟ قرآن کریم پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی صفت مٰلک یوم الدین کو مندرجہ ذیل اُصول کے مطابق استعمال فرماتا ہے۔اول اصل اس صفت کے اجراء کے متعلق یہ ہے کہ خدا تعالیٰ ہر چیز کے تمام پہلوؤں کو جان کر فیصلہ کرتا ہے بے جانے کوئی فیصلہ نہیں کرتا۔اب جو شخص خدا تعالیٰ کی اس صفت کو جلوہ گر دیکھنا چاہے اسے چاہئے کہ غور کرے کہ کیا وہ بھی اسی طرح کرتا ہے۔یا وہ جونہی سنتا ہے کہ فلاں شخص نے چوری کی ہے تو کہہ دیتا ہے کہ تب تو وہ بہت بُرا ہے۔لیکن خدا تعالیٰ اس طرح نہیں کرتا اس لئے خدا کی قضاء اوربندہ کی قضاء میں بہت بڑا فرق ہے۔وہ سارے حالات معلوم کرکے فیصلہ کرتا ہے اور انسان یونہی فیصلہ کرنے بیٹھ جاتا ہے۔جس طرح روز مرہ ہر انسان فیصلہ کرنے لگ جاتا ہے سب مجسٹریٹ اسی طرح کرنے لگ جائیں تو دنیا میں اندھیرے مچ جائے۔کوئی کسی کےمتعلق جاکر کہے کہ فلاں نے چوری کی ہے اور مجسٹریٹ سنتے ہی فوراً اس شخص کو قید کرڈالے تو کس قدر ظلم برپا ہوجائے۔پس اپنے نفس میں سوچو کہ وہ قضاء جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے سپرد کی