انوارالعلوم (جلد 6) — Page 445
ہے اس کو تم کس طرح استعمال کرتے ہو۔اگر خدا تعالیٰ جس طرح اپنے جج ہونے کی صفت کو استعمال کرتا ہے اسی طرح نہیں کرتے تو اس کی طرف قدم نہیں بڑھاسکتےاوراگر اس کی طرف قدم بڑھانا چاہتے ہو تو چاہئے کہ اپنے دماغ کے گوشوں میں بھی کسی کی نسبت بغیر تحقیق و تدقیق کوئی خیال نہ آنےدو جب تک پہلے کامل تحقیق نہ کرلو۔جس کا قصور ہو اسی کو سزا دو دوسری اور تیسری خصوصیت خدا تعالیٰ کے فیصلہ میں یہ پائی جاتی ہے کہ جس کام کا جرم ہوتا ہے اور جس کے متعلق فیصلہ کرنا ہوتا ہے اسے دوسروں کے جرموں کی وجہ سے نہیں پکڑتا اور نہ دوسروں کو اس کی بجائے پکڑتا ہے۔پس اس شخص کو جو خدا تعالیٰ کی صفت مالکیت کو اپنے اندر جلوہ گر کرنا چاہتا ہے سوچنا چاہئے کہ کیا وہ بھی اس طرح کرتا ہے کیا وہ اس طرح تو نہیں کرتا کہ جب اسے کسی شخص سے نفرت پیدا ہوتی ہے تو اس کے بھائی سے بھی نفرت کرنے لگ جاتا ہے۔اسے یاد رکھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ جس کا قصور ہوتا ہے اسی کو سز دیتا ہے۔پس صفت مالکیت میں خدا تعالیٰ کے ساتھ مشابہت پیدا کرنے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ جس کی نسبت کوئی فیصلہ کرنا ہو اپنے فیصلہ کو اسی کی نسبت محدود رکھو نہ کہ اس کی وجہ سے اس کے رشتہ داروں اور دوستوں کو بھی بُرا سمجھو اور نہ یہ کرو کہ دوسروں کے جُرم کی وجہ سے اسے پکڑو۔جرم کے مطابق سزا دو چوتھی خصوصیت خدا تعالیٰ کی قضاء میں یہ ہے کہ وہ جس قدر جرم کسی کا ہو اتنی ہی سزا دیتا ہےسالک کو چاہئے کہ وہ بھی ایسا ہی کرے یہ نہ ہو کہ مثلاً اس کسی نے گالی دی اور وہ اس کے بدلہ میں یہ خواہش کرے کہ اگر بس چلے تو اسے مار دوں بلکہ خدا تعالیٰ کی طرح اگر سزا دینی ہی پڑے یا رائے قائم کرنی ہو تو جرم کے مطابق ہی سزا دے یا رائے قائم کرے۔فیصلہ کرتے وقت میزان رکھو پانچویں بات خدا تعالیٰ یہ کرتا ہے کہ جب فیصلہ کرتا ہے تو میزان رکھتا ہے یعنی یہ دیکھتا ہے کہ جرم تو کیا مگر کس حالت میں؟ ایک شخص نے چوری سے کسی کی روٹی کھالی یہ جرم ہے مگر خدا تعالیٰ اس کے جرم کا فیصلہ کرتے وقت یہ بھی دیکھتا ہے کہ اس نے کس حالت میں وہ روٹی کھائی ہے آیا دوسرے کے مال پر تصرف کرنے کےلئے یا ی کہ وہ بھوک سے مجبور تھا اور اور کوئی ذریعہ پیٹ بھرنے کا اسے معلوم نہیں تھا۔پس جو سالک ہوا اسے بھی چاہئے کہ اسی طرح کرے یہی نہ دکھے کہ کسی نے کیا