انوارالعلوم (جلد 6) — Page 438
کی صفات جو جلوہ گری کریں ان کو اپنے اندر جذب کرلینا۔حضرت مسیح موعودؑنے اس کی لطیف مثال دی ہے فرماتے ہیں لوہا لے کر آگ میں ڈالو تو اس کی پہلی حالت یہ ہوگی کہ معمولی گرم ہوگا اور زیادہ گرم کیاجائے گا تو جلانے کا کام کرے گا مگر اس کی شکل آگ کی سی نہیں ہوگی اس سے ترقی کریگا تو آگ کی طرح چمک پیدا ہوجائے گی۔اسی طرح بندہ کا لقاء ہوتا ہے بندہ خدا میں محو ہوتے ہوتےاس حد کو پہنچ جاتا ہے کہ لوگ سمجھنے لگ جاتے ہیں کہ یہ بندہ نہیں خدا ہے چنانچہ بعض بندوں کو اسی وجہ سے خدا بنا لیا گیا۔رؤیت اور لقاء میں فرق اب مَیں بتاتا ہوں کہ رؤیت کیا ہے اور لقاء کیا؟ اوران میں کیا فرق ہے؟ اس لئے یہ یاد رکھنا چاہئے کہ رئویت تو عارضی ہوتی ہے یعنی اس کے یہ معنی ہیں کہ خدا کا جلوہ دیکھ لیا اور لقاء کے معنے یہ ہیں کہ خدا مل گیا اس کو پالیا یہ مستقل درجہ کا نام ہے اور اصل لقاء ہی ہے۔روئیت کے بعدلقاء کا مقام ہے اور جسے یہ مقام حاصل ہوگیا اسے ایک قسم کی رؤیت ہمیشہ ہی حاصل ہوتی رہتی ہے۔لقاء الٰہی سے کبھی نا امیدی نہیں ہونا چاہئے اب میں لقاء کا کچھ ذکر کرتا ہوں۔مگر اس سے قبل یہ بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ خدا سے ملنے میں مؤمن کو کبھی نا اُمید نہ ہونا چاہئے اس لئےکہ خدا تعالیٰ خودچاہتا ہے کہ بندہ اس سے ملے اگر یہ خواہش صرف ہماری طرف سے ہوتی تو اور بات تھی مگر اب تو یہ صورت ہے جس طرح کسی شاعر نے کہا ہے۔ملنے کاتب مزاہے کہ دونوں ہوں بے قرار دونوں طرف ہو آگ برابر لگی ہوئی! پس چونکہ خدا تعالیٰ خود بندہ کے لقاء کو چاہتا ہے اس لئے اس سے نااُمید نہیں ہونا چاہئے۔پہلی خطاؤں کی معافی لقاء کیلئے یہ ضروری ہے کہ انسان پہلے پچھلی صفائی کرے۔اس کیلئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑا آسان طریقہ بتایا ہے۔ایک شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آکر کہا حضور مجھ سے خطا ہوگئی ہے مَیں کیا کروں؟ آپؐنے فرمایا تمہاری ماں زندہ ہے۔اسنے کہا نہیں آپؐنے فرمایا تمہاری ماں زندہ ہے۔اس نے کہا نہیں آـپؐنے فرمایا خالہ؟ کہا نہیں فرمایا کوئی اور رشتہ دار جو ہے اس کی خدمت کردے۔اس سے معلوم ہوا کہ ان رشتوں کا ادب اور خدمت کرنا خطاؤں کو معاف کراتا ہے مگر تین باتیں اس سے پہلے سوچے۔