انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 437 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 437

دنیا میں ایسے سامان پیدا کردیتی ہے کہ اس کے کام آپ ہی آپ ہو جاتے ہیں۔چنانچہ انبیاء اور ان کے کئی اتباع دنیوی کاموں سے علیحدہ ہوجاتے ہیں مگر خدا ان کے سارے کام پورے کرتا رہتا ہے۔تیسرا نفع یہ ہوتا ہے کہ ہم ان صفات کو اپنے اندر پیدا کرکے ترقی کرسکتے ہیں۔یعنی پہلے درجہ میں تو انسان خدا تعالیٰ کی صفات کو اپنی مدد کے لئے بُلاتا ہے جب اس سے ترقی کرسکتے ہیں۔یعنی پہلے درجہ میں تو انسان خدا تعالیٰ صفات کو اپنی مدد کےلئے بُلاتا ہے جب اس سے ترقی کرتا ہے تو پھر خود صفات الٰہیہ کو اپنے اندر پیدا کرنے لگ جاتا ہے گویا خدا سے یہ نہیں چاہتا کہ اسے رزق دے بلکہ یہ چاہتا ہے کہ رازقیت دے ،ربوبیت دے ،ملکیت ،رحمانیت دے، خالقیت دے اس حالت میں پہنچ کر انسان کے اخلاق اور ہی رنگ اختیار کرلیتے ہیں۔وہ انسانوں میں رہتا ہے لیکن الگ ہی قسم کا انسان ہوتا ہے دشمن بھی اس کے اخلاق دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے اور ان کی خوبی مانتا ہے البتہ عداوت اور دشمنی کی وجہ سے یہ کہتا ہے کہ یہ سب کچھ بناوت کے طور پر کرتا ہے۔غرض پہلے تو انسان خدا کی صفات کا ظہور مانگتا ہے لیکن پھر کہتا ہے کہ یہ صفات ہی دے دے۔اب ساری صفات اس کے اندر پیدا ہونی شروع ہوجاتی ہیں اور اب وہ ایسا شیشہ ہوتا ہے کہ جس پر خدا کا عکس پڑنا شروع ہوجاتا ہے اور دُنیا اس کو دیکھتی ہے۔اسی لئے حضرت مسیح موعود ؑکو الہام ہوا یَا قَمَرُ یَا شَمْسُ اَنْتَ مِنّی وَاَنَا مِنْکَ(تذکرہ صفحہ ۵۸۸،۵۹۰ ایڈیشن چہارم) گویا حضرت صاحبؑکو خدا نے کہا کہ تُو سورج ہے اور مَیں چاند ہوں اور مَیں سورج ہوں تُو چاند ہے۔حضرت مسیح موعودؑ کے اس الہام کا مطلب اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگ مجھے نہ جانتے تھے تُو نے بتایا کہ وہ ہے اس لئے تُو سورج ہے پھر تو اصل میں روشن نہیں ہے مَیں نے اپنا پَر تَو تجھ پر ڈالا ہے تب تُو روشن ہوا ہے اس لئے مَیں سورج ہوں اور تُو چاند ہے۔اسی طرح بندہ خدا کی صفات کو لے کر خدا کو دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے غرض یہ تین قسم کے فوائد ہیں جو صفات الٰہیہ سے حاصل ہوسکتے ہیں۔لقاء الٰہی اس کے بعد ایک اور درجہ ہےجسے لقاء کہتے ہیں اس کے معنے ہیں خدا مل گیا۔لقاء کی تعریف کیا ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ خدا کے اندر شامل ہوجانا بلکہ یہ کہ خدا