انوارالعلوم (جلد 6) — Page 395
کے لئے برابرہوں۔وہ انسان جو بیماری کا شکار ہوتا ہے اس سے پوچھ کر دیکھو تو کیا وہ موجودہ حالت کو پسند کرتا ہے یا اس قسم کی حالت کو جو دہریہ تجویز کرتے ہیں۔پھر بیماری کا باعث جسم کی وہ حِس ہے جس سے وہ سختی اور نرمی کو محسوس کرتا ہے یا انسان کے جسم کی نرمی ہے جس سے وہ اپنی ذات میں آرام محسوس کرتا ہے اس نرم جسم پر اگر زور سے چوٹ لگے تو وہ زخمی بھی ہوگا۔بیماری کے اسباب کے مٹانے کے ایک یہ معنی بھی ہوں گے کہ ان حِسّوں کو مٹا دیاجائے مگر ان کو مٹا کر دیکھو کیا نتیجہ نکلے گا۔اپنے عزیزوں کو ہاتھ لگائے گا اور ان کے جسم کو پتھر کی طرح سخت پائے گا بلکہ اپنے جسم میں حِس نہ ہوگی اور کچھ محسوس ہی نہیں کرے گا جس طرح فالج زدہ کے جسم کو کوئی چیز چھوتی ہے اور وہ کچھ محسوس نہیں کرتا کیا کوئی شخص بھی اس حالت کو پسند کرےگا ؟ دنیا کے بہت سے لُطف اوربہت سی دلبستگیاں چھونے کی حِس سے ہیں اور اپنے جسم کی نرمی میں ہیں۔اب اگر بیماری کو دور کرنے کے لئے اس حِس کو اور اس نرمی کو دُور کردیا جائے تو بیشک درد اور زخم تو مٹ جائے گا مگر انسان کا کیا باقی رہے گا؟ وہ ایک پتھر ہوگا جو نہ اپنے جسم کے آرام کو محسوس کرسکے گا نہ دوسروں سے چُھونے کا کوئی لطف اسے حاصل ہوسکے گا بلکہ ایسے شخص کو کوئی اُٹھا کر بھی لے جائے تو اسے کچھ معلوم نہ ہوگا۔اس نقشہ کو کھینچ کر اپنے دل میں دیکھ لو کہ سردی گرمی کا احساس مٹ جائے گرمی سردی کا موسم یکساں ہوجائے۔ٹھنڈے پانی اور گرم پانی کا احساس باقی نہ رہے، میٹھا ،کڑوا سلونا کوئی مزا محسوس نہ ہو، سختی نرمی کا کچھ پتہ نہ لگے ،جسم لوہے کی طرح سخت ہو، خوشبو اوربدبو کا امتیاز باقی نہ رہے اور اس کے نتیجہ میں بیماری بھی پیدا نہ ہو تو کیا اس زندگی کو دُنیا خود بیماری کہے گی یا نعمت سمجھے گی؟ کسی عقلمند انسان کے سامنے اس تجویز کو پیش کرکے دیکھو وہ اسے جنون قرار دے گا۔خواہ لاکھ اسے سمجھائو کہ اس طرح بیماری کا دروازہ بند ہوجائے گا وہ کبھی تسلیم نہ کرے گا اوریہی کہے گا کہ بیماری تو کبھی کبھی اور کسی کسی کو آتی ہے مگر تمہاری تجویز سے تو ہر شخص کے لئے زندگی کا ہی دروازہ بند ہوجائے گا یہی حسیں تو روزانہ میرے کام آتی ہیں اور میری زندگی کے دلچسپ بنانے کا موجب ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے زندگی کو دلچسپ بنانے کے لئے انسان کو یہ حِسّں دی ہیں۔ان کےاستعمال میں جب انسان غلطی کر بیٹھتا ہے تو بیمار ہو جاتا ہے اور بیماری اسی طرح اڑائی جا سکتی ہے کہ یا یہ حِسیں اُڑادی جائیں یا پھر انسان کا اپنا ارادہ ہی باقی نہ رہے وہ اپنے ہر کام میں