انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 396 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 396

مجبور ہو۔ثانی الذکر صورت کے اختیار کرنے سے انسان کی پیدائش کی غرض باطل ہوجاتی ہے اور اوّل الذکر صورت اختیار کرنے کو خود انسان ہی پسند نہ کرے گا۔پس وہی طریق سب سے مناسب ہے جو خدا تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔ہرکام میں تکلیف ہوتی ہے اس قسم کی اعتراض کرنے والوں کو یہ بھی سوچنا چاہئے کہ تکلیف تو دنیا کے سارے پیشوں میں ہی ہوتی ہے۔زمیندار ایک کھیت تیار کرتا ہے تو کیا یونہی کرلیتا ہے؟ہل چلاتے وقت بیسیوں چکر کاٹتا ہے،سردی گرمی کی تکلیف برداشت کرتا ہے ،اس کے بیوی بچے الگ محنت میں شریک ہوکر تکلیف اُٹھاتے ہیں۔پس یہی نہیں کہ بیماری سے ہی انسان کو تکلیف ہوتی ہے بلکہ کھانے پینے کا انتظام کرتے ہوئے بھی تکلیف ہوتی ہے اس لئے اگر تکلیفوں کو دور کرنے سے ہی خدا تعالیٰ کی صفاتِ رحمت کا پتہ چل سکتا ہے تو یہ بھی سوال ہونا چاہئے یہ کہ آپ ہی غلہ اُگے ،آپ ہی گھر میں آجائے، آپ ہی آپ روٹی پکے۔اسی طرح کپڑوں کی تیاری میں تکلیف ہوتی ہے چاہئے یہ کہ آپ ہی آپ ہوجائے۔تمام کاروبار بند ہوجائیں اور سب پیشے موقوف ہوں نہ لوہار رہے۔نہ ترکھان ،نہ دھوبی رہے نہ درزی، نہ ڈاک والے رہیں نہ ریل والے کوئی بھی نہ رہے۔گویا جس طرح پرانے زمانہ میں ایدی خانے ہوتے تھے (جن کا نام برعکس تھا کیونکہ ان میں ایسے لوگ رکھے جاتے جو بے ہاتھ ہوتے) ساری دنیا، ہی ایدی خانہ بن جائے۔سب لوگ چارپائیوں پر پڑے ہوئے ہوں، نہ چلنے کی تکلیف ،نہ اٹھنے کی ضرورت ،نہ کوئی ہاتھ ہلائے نہ پاؤں ،سب کام آپ ہی آپ ہوں، سب ترقیاں بند ہوجائیں،سب مقابلے روک دئیے جائیں یہ ندیا جو تکلیفوں کے سلسلے کے بد ہونے کے خواہشمند پیدا کرنی چاہتے ہیں۔اگر موت نہ ہوتی اب مَیں ایک اور پہلو کو لیتا ہوں اور وہ یہ کہ مرنے سے جو تکلیف ہوتی ہے اسے اُڑا کر دیکھو کیا صورت بنتی ہے۔اگر نئی نسلیں تو پیدا ہوتی رہیں لیکن کسی پر موت نہ آئے تو ایک ہزار سال کے عرصہ میں ہی دنیا پر تل دھرنے کی جگہ نہ رہے