انوارالعلوم (جلد 6) — Page 26
حضرت عیسیٰ ؑکو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھاتے ہیں۔اسی طرح ہم ان کو عیسیٰ کے نام سے لیواؤں کے مقابلہ میں گرادینگے اور خاک میں ملا دینگےپس خدا کی غیرت نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس ہتک کو گوارا نہ کیا۔اس لئے اس نے ان مسلمانوں کو ذلیل کیا اور عیسائیوں کو ان پر غالب کردیا۔یہ لوگ جوش سے کہتے ہیں کہ محمّد رسول اللہ علیہ وسلم کی بگڑی ہوئی اُمّت کو مسیح ناصری سنوارینگے۔خدا نے کہا بہت اچھا ہم مسیح کے ماننے کے مدعیوں کو ہی تم پر مسلّط کرتے ہیں۔پس جو کچھ ان کے ساتھ ہورہا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کا نتیجہ ہے اور جب تک یہ حضرت عیسیٰ ؑکو آنحضرتؐ سے افضل مانتے رہیں گے ذلیل رہیں گے۔کیونکہ خدا نے ان کو یہ سزا دی ہے اس لئے اس سزا میں ان کے گھروں کو عزت دینے کی بجائے ذلیل کیا جائیگا اوربرباد کیا جاویگا۔انہوں نے حضرت عیسیٰ ؑکو خدا بنایا کہ وہ زندہ ہیں نہ کھاتے ہیں نہ پیتے ہیں۔مُردوں کو زندہ کرتے ہیں اور جانور پیدا کرتے ہیں۔جب ان کی یہ حالت ہوگئی تو خدا تعالیٰ ان کی کیسے مدد کرسکتا تھا۔قرآن کی حفاظت کے وعدے کا ایفاء اب ایک اور سوال ہے کہ خدا نے وعدہ کیا تھا کہ اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ (الحجر : ۱۰ ) دیکھنا یہ چاہئے کہ خدا نے اسلام کی حفاظت اور قرآنِ کریم کی حفاظت کا کیا سامان کیا ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ خدا نے تو سامان کیا ہے مگر لوگ اس کی طرف توجہ نہیںکرتے۔خُدا ان کو مجبور کریگا کہ وہ ادھر متوجہ ہوں۔خدا نے ایک شخص کو اسلام کی خدمت کے لئے اور اس کو تمام دنیا کے مذاہب کے مقابلہ میں بلند کرنے کے لئے مبعوث کیا ہے وہ شخص حضرت مرزا غلام احمد صاحب ہیں۔جن کو ہم مانتے ہیں کہ وہ آنے والے مسیح نبی اللہ اور مہدی ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اسلام کو دنیا میں دوبارہ غالب کرینگے اور اس کے مخالفوں کے سر اس کے آگے جُھکا دینگے اور ہم اس کے آثار دیکھ رہے ہیں۔خدا نے اسلام کے لئے کیا کیا دُنیا ان پر طرح طرح کےاتہام لگاتی ہے۔مخالف ان کو دجّال ،فریبی اور کاذب اور کیا کیا نام دیتے ہیں۔مگر یہ عجیب بات ہے کہ اسلام جو خدا کا پیارا مذہب ہے وہ تومٹ رہا تھا اور ہر طرف سے دشمنوں کے نرغے میں تھا۔خدا تعالیٰ نے بجائے اس کی حفاظت کے ایک اور ایسا شخص بھیج دیا جو اس کو مٹائے اور اس کو نابود کردے۔کیا یہ خُدا کی اسلام سے محبت کا ثبوت ہے یا عداوت کا اگر اسلام خدا کا پیار امذہب ہے جیسا کہ واقع میں ہے تو ضرور تھا کہ اس مصیبت اور آفت کے وقت میں *الحجر۱۰