انوارالعلوم (جلد 6) — Page 380
مطلق خدا کو گالی دینے لگے گا بلکہ اس لئےمنع ہے کہ وہ خدا ہے۔کیا ہر چیز کو خدا ماننے والوں کا ایمان کامل ہوتا ہے؟ پھر وہ کہتے ہیں کہ سوائے ہمارے کسی کو ایمان کامل حاصل نہیں ہوسکتا کیونکہ ایمان بغیر لقاء کے مکمل نہیں ہوسکتا مگر تم خدا کو وراء الوریٰ کہہ کر اس کا ایسا نقشہ کھینچتے ہو کہ اس کا تصوّر نہیں آسکتا مگر ہم اس کو محسوسات اور مشہور دات میں دیکھتے ہیں اس لئے ہمارایمان کامل ہے۔ہم کہتے ہیں اگر اس طرح تمہارا ایمان کامل ہوتا ہے تو تم سے زیادہ بت پرست کامل ایمان رکھتے ہیں کہ وہ عین چیز کو سامنے رکھ کر اس کی عبادت شروع کرتے ہیں اور وہ بھی یہی کہتے ہیں کہ خدا کا تصور قائم کرنے کے لئے اس طرح کرتے ہیں۔اگر کہو کہ وہ غیر اللہ سمجھتے ہیں اس لئے ان کا فعل جائز نہیں تو ہم کہتے ہیں کہ تم عین اللہ سمجھ کر ان چیزوں کی پرستش کیوں نہیں کرتے تا کہ لقاء زیادہ کامل ہوجائے۔دوسرا جواب یہ ہے کہ ایمان کے لئے تصور کی ضرورت نہیں تصور کے معنے تو صورت کو ذہن میں لانے کے ہیں اور خدا تعالیٰ کی کوئی صورت نہیں اوراگر اس کے معنی صفات کو یاد کرنا کرو توجو وحدت وجود کےلئے کافی ہوتا ہے۔دیکھو بجلی نظر نہیں اتی اب بجلی کا لفظ جب بولتے ہیں تو اس کےظہور ہمارے ذہن میں آجاتے ہیں مگر کیا ان ظہوروں کا ذہن میں آنا کافی نہیں ہوتا؟ یہ امر بھی قابل غور ہے کہ تصور کا لفظ ان لوگوں کی ایجاد ہے۔خدا تعالیٰ نے کہاں کہا ہے کہ مجھے تصور میں لائو۔خدا نے تو یہ کہا ہے کہ مجھے جانو اور میری معرفت حاصل کرو میرا علم حاصل کرو۔اوریہ اس کی صفات سے ہوسکتا ہے۔تیسرا جواب یہ ہے کہ معرفت کے مختلف ذرائع ہیں کبھی کسی چیز کی معرفت تصور سے ہوتی ہے کبھی اس کےآثار کے تصور سے کبھی مشابہ کیفیاّت کے تصور سے جیسے اپنے غصّے پر قیاس کرکے ہم دوسروں کے غصّہ کو سمجھ جاتے ہیں۔اور کبھی معرفت قبل از وقت سنی ہوئی تعریف کو یاد کرکے حاصل ہوتی ہے خدا تعالیٰ کی معرفت بھی پچھلے تین ذرائع سے ہوتی ہے۔بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نسبت جو کچھ بندہ کو معلوم ہوتا ہے اور اس پر جو ایمان اسے حاصل ہوتا ہے اس کی وجہ سے اس کا ذکر آتے ہی صفات الٰہیہ کی یاد اس کے دل میں ایسا ہیجان پیدا