انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 333 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 333

کچھ بنا کر دکھا دے۔جب حضرت صاحب ؑنےیہ دعویٰ کیا کہ خدا مجھ پر علم غیب ظاہر کرتا ہے تو ایک پادری نے اسی قسم کا سوال کیا تھا اس نے کہا کہ مَیں چند سوال لکھ کر بند کرے رکھ دوں گا آپ خدا سے پڑھوا کر بتا دیں کہ کیا سوال ہیں؟ حضرت صاحب ؑنے اس کے جواب میں فرمایا۔چلو ہم تمہاری یہی بات مان لیتے ہیں۔بشرطیکہ عیسائیوں کی ایک جماعت اقرار کرے کہ صحیح جواب ملنے پر وہ مسلمان ہوجائیں گے ورنہ خدا تماشہ نہیں کرتا کہ لوگوں کی مرضی کے مطابق جس طرح وہ کہیں نشان دکھاتا رہے۔غرض منکرین یہ کہتے ہیں کہ اگر خدا ہے تو اس کے علم کی ،قدرت کی اور خلق کی تازہ بتازہ مثالیں جس قسم کی ہم کہتے ہیں دکھا دو۔جواب اس کا جواب یہ ہے کہ ہر ایک سوال کی دو غرضیں ہوتی ہیں۔سوال یا تو اپنے علم کی زیادتی کیلئے کیاجاتا ہے یا دوسرے کے علم کا امتحان لینے کے لئے اور اس کے لئے یہ ضروری ہوتا ہے کہ جس سے سوال کیاجائے اس کی جو حیثیت ہو اسی کے مطابق سوال کیاجائے مثلاً اگر ایک سپاہی کو ایک لفٹینٹ ملے اور وہ سپاہی اس سے کچھ دریافت کرنا چاہے تو وہ اس طرح نہیں کرے گا کہ اسے کان سے پکڑ کر کہے کہ بتائو فلاںبات کس طرح ہے؟ بلکہ سارے آداب کو مدِّ نظر رکھ کر اس سے بات کرے گا۔غرض جو اپنے سے بالا ہو اس سے سوال کرنے کے اور آداب ہوتے ہیں اور جو کمتر ہو اس کے آداب اور ہوتے ہیں اور جو لوگ خدا تعالیٰ کے وجود کو دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں وہ اسے ایک طالب علم یا امید وار ملازمت کی حیثیت میں نہیں پیش کرتے کہ ممتحن یا ملازم رکھنےوالے اپنی مرضی کے مطابق جس طرح چاہیں اور جو چاہیں اس سے پوچھیں وہ بادشاہ ہے سب بادشاہوں کا مالک ہےآقا ہے حاکم ہے خالق ہے محسن ہے ہمارا ذرّہ ذرّہ اس کی پیدائش ہے اگر ایک شخص اس کی ذات عالی کے متعلق بطور فرض کے بھی سوال کرتے تو اسے مدنظر رکھنا ہوگا کہ وہ کس ہستی کے متعلق سوال کر رہا ہے۔ذرا غور کرو کہ اگر کوئی کہے کہ مَیں سُپر نٹنڈنٹ پولیس ہوں یا ڈپٹی کمشنر ہوں تو کیا لوگ یہ کیا کرتے ہیں کہ اپنی مرضی کے سوالات بنا کر اس کے سامنے پیش کردیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کو حل کرو۔تب ہم تمہیں افسر پولیس یاڈپٹی کمنشر مانیں گے۔دُنیا میں کوئی شخص بھی حکام کی حقیقت معلوم کرنےکے لئے ایسا نہیں کرتا بلکہ اگر شک ہو تو ان سے ثبوت طلب کرتے ہیں آگے ان کی مرضی ہوتی ہے کہ وہ جس رنگ میں چاہیں ثبوت دیں اگر وہ ثبوت ان کے دعویٰ کو ثابت کرنے والا ہو تو لوگوں کو ماننا پڑتا ہے خواہ وہ اس رنگ کا ثبوت کہ لوگ چاہتے تھے