انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 332 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 332

بھی ہیں اور خود مذہب کے دشمن بھی ہیں دہریے بھی ہیں مگر اب تک کسی میں یہ طاقت نہیں ہوئی کہ قرآنِ کریم کے اس دعویٰ کو رد کرسکے۔دوسری مثال حضرت مسیح موعودؑکی عربی کتب ہیں۔آپؑنے بھی ان کے بے مثل ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور چیلنج دیا ہے کہ کوئی ان کا جواب بنا سکتا ہے تو بنا کر دکھائے باوجود اس کے کہ حضرت مسیح موعودؑعجمی تھے اور آپؑ کے دمن بڑے بڑے علماء عجم کے علاوہ علمائے عرب بھی تھے مگر سب لوگ آپ ؑکی غلطیاں نکالنے کا دعویٰ تو کرتے رہے مگر آپ ؑکی کتب کی مثل لانے کیلئے سامنے نہ آئے پچھلے دنوں یہاں پروفیسر مار گولیتھ صاحب آئے تھے وہ انگریزوں میں سے عربی کے بڑے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ان سے میری معجزات پر گفتگو ہوئی اور وہ کہنے لگے کہ کیا قرآن والا معجزہ اب بھی دکھایاجاسکتا ہے یہ عجیب بات ہے کہ خدا تعالیٰ نے پکڑ کر ان کے منہ سے اس معجزہ کا مطالبہ کروایا جو حضرت مسیح موعود ؑکےہاتھ پر ظاہر ہوچکا تھا۔مَیں نے کہا ہاں اس زمانہ میں بھی دکھایا جاسکتا ہے بلکہ دکھایا گیا ہے۔مَیں نے حضرت مسیح موعود کی کتاب الہدیٰ اس کےسامنے رکھدی اور کہا اس کی نظیر لانے والے کے لئے حضرت صاحب نے بیس ہزار کا انعام رکھا ہے اور مَیں یہ اقرار لکھ دیتا ہوں کہ جو اس کی مثل لے آئے گا اسے میں یہ انعام دے دوں گا اس پر وہ خاموش ہوگیا۔یہ چند مثالیں مَیں نے خدا کی صفات کی دی ہیں۔ان سےپتہ لگتا ہے کہ خدا کی ہرصفت اس کی ہستی کی دلیل ہے پس خدا کو ثابت کرنے کے لئے نہ فلسفہ کی ضرورت ہے نہ کسی اور چیز کی جب کوئی پوچھے کہ خدا کی ہستی کا کیا ثبوت ہے۔تو اس وقت خدا کی جو صفت بھی بندوں کے ساتھ تعلق رکھنے والی سامنے آئے وہ پیش کردی جائے۔اسکے مقابلہ میں کوئی نہ ٹھہر سکے گا۔خدا تعالیٰ کے کم از کم ننانوے نام ہیں۔اس لئے ننانوے ہی صفات ہوئیں اوران میں سے ہر ایک خدا کی ہستی کی دلیل ہے۔صفات پر اعتراض اور اس کا جواب ان دلائل کے بیان کرنے کے بعد میں چند ان اعتراضات کا جواب دیتا ہوں جو صفات الٰہیہ پر منکرین ہستی باری کیا کرتے ہیں۔ان میں سے بعض صفات باری کا ذکر سن کر کہا کرتے ہیں کہ ہم لمبی اور پُرانی بحثوں میں نہیں پڑتے تم کم از کم ہمیں تین باتوں کا مشاہدہ کرادو یعنی اوّل خدا کے علم کا ،دوسرے خدا کی قدرت کا ،تیسرے خدا کی خلق کا، اگر خدا کو علم ہے تو یہ کتاب پڑی ہے اس کو پڑھ دے اگر قدرت ہے تو یہ تنکا پڑا ہے اسے اُٹھالے۔اگر وہ خالق ہے تو یہ مٹی کا ڈلہ پڑا ہے اس سے