انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 326 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 326

کو پانی دے دیا اللہ تعالیٰ نے اس میں ایسی برکت دی کہ سب کی ضرورت بھی پوری ہوگئی اور اس عورت کے لئے بھی پانی بچ رہا یہ ایک زبردست نشان صفت خالقیت کے ثبوت میں ہے اور اس واقعہ کے سچّے ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ جب اس واقعہ کو اس کی قوم نے معلوم کیا تو وہ سب کی سب مسلمان ہوگئی۔ایک ایسا واقعہ جس پر قوم کی قوم مذہب تبدیل کرے۔راویوں کے ذہن کی بناوٹ نہیں کہلا سکتا۔اگر کوئی کہے کہ یہ تو ایک قصّہ ہے جو بعد میں بنالیا گیا ہے تو مَیں کہتا ہوں کہ اس قسم کی تازہ مثالیں بھی موجود ہیں۔مثلاً حضرت مسیح موعود کا ہی ایک واقعہ ہے جس کے گواہ ابھی زندہ موجود ہیں اور وہ یہ کہ حضرت صاحب ایک دفعہ سوئے ہوئے تھے۔مولوی عبداللہ صاحب سنوری آپؑکے پائوں دبا رہے تھے۔انہوں نے پائوں دباتے دباتے دیکھا کہ گوئی گیلی گیلی چیز آپ کے پائوں پر گری ہے۔ہاتھ لگا کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ گیلا سُرخ رنگ ہے۔وہ کہتے ہیں کہ مَیں حیران ہوا کہ یہ کیا چیز ہے اور یہ خیال کرکے کہ شاید چھپکلی وغیرہ کا خون ہو میں نےچھت کی طرف جو دیکھا تو وہ بالکل صاف تھی اور اس پر چھپکلی کا کوئی نشان نہ تھا پھر وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنی ٹوپی کو دیکھا تو اس پر بھی کچھ چھینٹے تھے حضرت مسیح موعودؑاس وقت کسی قدر بیدار ہوئے اور آنکھیں کھولیں تو آپ کی آنکھوں میں آنسو تھے اور مَیں نے دیکھا کہ آپ کے کُرتے پر بھی کئی چھینٹے ویسے ہی سُرک رنگ کے پڑے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ مَیں نے آپ سے پوچھا کہ یہ نشان تازہ بتازہ پڑے ہیں یہ کیسے ہیں؟پہلے تو آپ نے فرمایا کسی طرح نشان پڑگئے ہوں گے۔مگر جب مَیں نے زور دیا کہ حضور یہ تو میرے دیکھتے ہوئے پڑے ہیں اور تازہ ہیں تو پھر آپ نے سنایا کہ مَیں نے رؤیا میں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ بطور جج کے بیٹھا ہے اور میں ریڈر کے طور پر سامنے کھڑا ہوا اور کچھ کاغذات دستخظوں کے لئے پیش کرنا چاہتا ہوں۔اللہ تعالیٰ نے سرخی کی دوات میں قلم ڈبوئی اور قلم کو چھڑکا جس کے چھینٹے میرے کپڑوں پر گرے اور اس کا اثر ظاہر میں بھی ظاہر ہوگیا ٭یہ خواب تفصیل سے آپ ؑکی کتب میں موجود ہے۔اب دیکھو یہ خلق ہے یا نہیں؟وہ سرخی اگر خدا نے پیدا نہیں کی تھی تو کہاں سے آئی تھی؟غرض اب بھی صفت خلق کے ماتحت نشان دکھائے جارہے ہیں مگر اسکے نظائر مومنوں کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں۔خود میرا پنا ایک مشاہدہ ہے۔ایک دفعہ میں سو رہا تھا مَیں نے سوتے سوتے دیکھا کہ میرے منہ میں مشک ڈالی گئی ہے۔جب مَیں اُٹھا تو منہ سے مشک کی خوشبو آرہی تھی مَیں نے سمجھا شاید خواب کا *بخاری کتاب المناقب باب علامات النبوہ فی الإسلام،تذکرہ ص ۱۲۶،۱۲۷ ایڈیشن چہارم