انوارالعلوم (جلد 6) — Page 327
اثر ہے اور گھر والوں کو کہا کہ میرا منہ سونگھو انہوں نے بھی بتایا کہ مشک کی خوشبو آتی ہے یہ ایک قسم کی نئی پیدائش ہی تھی جو خدا کی صفت خالقیت کے ماتحت ہوئی۔شاید بعض لوگ کہیں کہ اس قسم کی باتیں خدا کے ماننے والے ہی کہتے ہیں ان کا کیا اعتبار ہو سکتا ہے مگر یاد رکھنا چاہئے کہ ماننے والوں کی باتیں بھی ماننی ہی پڑتی ہیں۔اگر راستباز سمجھدار آدمی جن کو جھوٹ بول کر کوئی فائدہ نہ پہنچتا ہو ایسے امور کی شہادت دیں تو کیا وجہ ہے کہ ان کی شہادت کو قبول نہ کیاجائےا ور اس قسم کی شہادتیں مؤمن ہی دے سکتے ہیں کیونکہ ایسے واضح نشانات مؤمنوں کو ہی دکھائے جاتے ہیں کیونکہ اگر نہ ماننے والوں کو بھی ایسے نشانات دکھائے جائیں تو پھر ان کا ایمان لانا کوئی خوبی نہیں رہ سکتا اوران کا ایمان بے فائدہ ہوجاتا ہے۔سورج کو دیکھ کر اسے ماننے پر کسی انعام کا انسان امیداوار نہیں ہوسکتا۔اسی طرح اگر ایسے شواہد غیر مؤمن دیکھیں تو ان کے ایمان بے نفع ہوجائیں پس یہ نظارے ایمان کے بعد ہی دکھائے جاتے ہیں۔صفتِ شافی کی شہادت چھٹی مثال کے طور پر میں خدا تعالیٰ کی صفت شفاء کو پیش کرتا ہوں۔اگر یہ ثابت ہوجائے کہ بعض مریض ایسے طریق پر اچھے ہوتے ہیں جو طبعی طریقوں کے علاوہ ہیں یا ایسے مریض اچھے ہوتے ہیں جو عام طور پر اچھے نہیں ہوسکتے۔تو ماننا پڑیگا کہ ایک ایسی ہستی موجود ہے جس کے اختیار میں شفا ء ہے اور یہ بھی کہ وہ اپنے اس اختیار کو استعمال بھی کرتی ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں ایسے نظارے نظر آتے ہیں کہ خدا تعالیٰ فضل سےغیر معمولی طور پر شفاء بعض مریضوں کو ملتی ہے بغیر اس کے کہ طبعی ذرائع استعمال ہوں یا ان موقعوں پر شفا ملتی ہے کہ جب طبعی ذرائع مفید نہیں ہوا کرتے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے واقعات میں سے اس قسم کی شفاء کی ایک مثال جنگ خیبر کے وقت ملتی ہے خیبر کی جنگ کے دوران میں ایک دن آپؐنے صحابہ سے فرمایا کہ خیبر کی فتح اس شخص کے لئے مقدر ہے جس کے ہاتھ میں مَیں جھنڈا دونگا۔حضرت عمرؓ فرماتے ہیں جب وہ وقت آیا تو مَیں نے گردن اونچی کرکر کے دیکھنا شروع فرمایا۔اتنے میں حضرت علیؓآئے اوران کی آنکھیں سخت دُکھ رہی تھیںآپؐنے ان کی آنکھوں پر اپنا لعاب دہن لگا دیا اور آنکھیں فوراً اچھی ہوگئیں اور آپؐنے ان کے ہاتھ میں جھنڈا دیکر خیبر کی فتح کا کام ان کے سُپرد کیا۔(بخاری کتاب المغازی باب غزوۃ خیبر)