انوارالعلوم (جلد 6) — Page 240
مولوی محمد علی صاحب سے گفتگو میں مسجد سے نکل کر مکرمی خان صاحب محمد علی خان صاحب کے مکان کی طرف آرہا تھا کہ مولوی محمد علی صاحب مجھ کو ملےاور کہا کہ مَیں آپ سے کچھ باتیں کرنی چاہتا ہوں۔مَیں ان کے ساتھ ہوگیا اور ہم دونوں جنگل کی طرف نکل گئے۔مولوی محمد علی صاحب نے مجھ سےذکر کیا کہ چونکہ ہر ایک کام بعد مشورہ ہی اچھا ہوتا ہے اور حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی وفات کے بعد جلدی سےکوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہئےبلکہ پورے مشورہ کے بعد کوئی کام ہونا چاہئے۔مَیں نے ان سے کہا کہ جلدی کا کام بیشک بُرا ہوتا ہے اور مشورہ کے بعد ہی کام ہونا چاہئے۔لوگ بہت سے آرہے ہیں اور کل تک اُمید ہے کہ ایک بڑا گروہ جمع ہوجاوے گا۔پس کل جس وقت لوگ جمع ہوجاویں مشوہ ہوجاوے جو لو گ جماعت میں کچھ اثر رکھتے ہیں۔وہ قریب قریب کے ہی رہنےوالے ہیں اور کل تک اُمید ہے کہ پہنچ جاویں گے۔مولوی صاحب نے کہا کہ نہیں اس قدر جلدی ٹھیک نہیں۔چونکہ اختلاف ہے اس لئے پورے طور پر بحث ہوکر ایک بات پر متفق ہوکر کام کرنا چاہئے۔چار پانچ ماہ اس پر تمام جماعت غور کرے۔تبادلہ خیالات کے بعد پھر جو فیصلہ ہو اس پر عمل کیاجاوے۔مَیں نےدریافت کیا کہ اوّل تو سوال یہ ہے کہ اختلاف کیا ہے؟ پھر یہ سوال ہے کہ اس قدر عرصہ میں اگر بغیر راہنما کے جماعت میں فساد پڑا تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفات کےموقع پربھی اسی طرح ہوا تھا کہ جو لوگ جمع ہوگئے تھے انہوں نے مشورہ کرلیا تھا اوریہی طریق پہلے زمانہ میں بھی تھال۔چھ چھ ماہ کا انتظار نہ پہلے کبھی ہوا نہ حضرت مسیح ؑکے بعد۔مولوی محمد علی صاحب نے جواب دیا کہ اب اختلاف ہےپہلے نہ تھا۔دوسرے اس انتظار میں حرج کیا ہے؟ اگر خلیفہ نہ ہو تو اس میں نقصان کیا ہوگا ؟ وہ کون سا کام ہے جو کل ہی خلیفہ نے کرنا ہے ؟ مَیں نے ان کو جواب دیا کہ حضرت مسیح موعودؑکی وفات پر جماعت اس بات کا فیصلہ کرچکی ہے کہ اس جماعت میں سلسلہ خلفاء چلے گا۔اس پر دوبارہ مشورہ کی ضرورت نہیں اور یہ سوال اب نہیں اُٹھایا جاسکتا۔اگر مشورہ کا سوال ہے تو صرف تعیین خلیفہ کے متعلق۔اوریہ جو آپ نے کہا کہ خلفیہ کا کام کیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ خلیفہ کا کام علاوہ روحانی نگہداشت کے جماعت کو متحدرکھنا اورفساد سے بچانا ہے۔اوریہ کام نظر نہیں آیا کرتا کہ مَیں آپ کو معیّن کرکے وہ کام بتادوں۔خلیفہ کا کام رُوحانی تربیت اور انتظام کا قیام ہے نہ رُوحانی تربیت مادی چیز ہے کہ مَیں بتا دوں کہ وہ یہ یہ کام کرے گا۔اورنہ فساد کا کوئی وقت معیّن ہےکہ فلاںوقت تک اسکی ضرورت پیش نہ آوے گی۔ممکن ہے کل ہی کوئی امر ایسا پیش آجاوے جس کے لئےکسی نگران ہاتھ کی ضرورت