انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 211 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 211

لکھنؤ اوربنارس میں لوگوں کے کم آنے کی اور کانپور میں زیادہ آنے کی وجہ مَیں سمجھتا ہوں یہی تھی کہ لکھنؤ اوربنارس کے لوگ مجھ سے ناواقف تھے اورکانپور میں بوجہ پنجابی سوداگروں کی کثرت کے ہماری خاندانی وجاہت سےایک طبقہ آبادی کا واقف تھا۔اس واقفیت کی وجہ سے وہ آگئے اورلیکچر سن کر حق نے ان کے دل پر اثر کیا اورپہلا لگاؤ اوربھی بڑھ گیا۔خواجہ صاحب کا سفر ولایت غرض جیسا کہ میں نے اوپر ذکر کیا ہے۔جماعت اس وقت عجیب قسم کے اضداد خیالات میں سے گزر رہی تھی۔اور یہ حالت برابر ایک دوسال تک اسی طرح رہیں۔یہاں تک کہ ۱۹۱۲؁ء آگیا۔اس سال کو سلسلہ کی تاریخ میں ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔کیونکہ اس میں بعض ایسے تغیّرات نمودار ہوئے۔کہ جنہوں نے آئندہ تاریخ سلسلہ پر ایک بہت بڑا اثر ڈالا ہے۔اورجو میرے نزدیک اختلافات سلسلہ کی بنیاد رکھنے والا سال ثابت ہوا ہے۔وہ واقعات یہ ہیں۔کہ اس سال خواجہ صاحب کی بیوی فوت ہوگئی۔خواجہ صاحب کو چونکہ اس سے بہت تعلق اور اُنس تھا۔اس غم کوغلط کرنے کے لئے انہوں نے ہندوستان کا ایک لمبا دورہ کرنے کی تجویز کی۔اوراس دورہ کی نسبت ظاہر کیا گیا کہ جماعت کے کاموں کے لئے چندہ جمع کرنے کے لئے ہے۔یہ وفد مختلف علاقہ جات میں گیا اورآخر کئی شہروں کا دَورہ کرتے ہوئے بمبئی پہنچا۔بمبئی میں ایک احمدی رئیس کے گھر پر یہ وفد ٹھہرا۔ان صاحب کو ان دنوں کوئی کام ولایت میں درپیش تھا جس کے لئے وہ کسی معتبر آدمی کی تلاش میں تھے۔انہوں نے خواجہ صاحب کو ایک بھاری رقم کے علاوہ کرایہ وغیرہ بھی دینے کا وعدہ کیا کہ وہ ولایت جاکر ان کے کام کے لئے سعی کریں۔سفر ولایت جو دل بستگی ہندوستانیوں کے لئے رکھتا ہے اس نےخواجہ صاحب کو اس موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دینے کی ترغیب دی اورانہوں نے اس تجویز کو غنیمت جانا اور فوراً ولایت جانے کی تجویز کردی۔چنانچہ بدر اسی امر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنے ۵؍دسمبر ۱۹۱۲؁ء کے پرچہ میں لکھتا ہے:- ’’اس سفر میں خواجہ صاحب کے لئے خدا تعالیٰ نے کچھ ایسے اسباب مہیا کردئیے ہیں کہ وہ انگلینڈ تشریف لے جاتے ہیں۔‘‘ حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے جو نصائح خواجہ صاحب کو چلتے ہوئے کیں۔ان میں بھی اس امر کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے۔آپ فرماتے ہیں:- (۵) ’’بقدر طاقت اپنی کے دین کی خدمت وہاں ضرور کرو۔‘‘ (پیغام جلد اول نمبر صفحہ ۳) خواجہ صاحب چونکہ شہرت کے خواہش مند ہمیشہ سے چلے آئے ہیں۔انہوں نے اس موقع کو غنیمت