انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 210 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 210

ذکر سننے کیلئے شاید آویں گے ہی نہیں۔اوراگر آویں گے تو اتنے کم کہ خواجہ صاحب اوران کے رفقاء کو یہ کہنے کاموقع مل جاوے گا کہ ہماراہی طرز تبلیغ درست ہے کہ جسکے باعث لوگ شوق سے سننے کیلئے آجاتے ہیں آکر ہوتے ہوتے تعلق کی زیادتی پر احمدی بھی ہوجاویں گے۔پس وہ شش وپنج کی حالت میں تھے اور اس طریق کو ناپسند کرتے ہوئے اس طریق کی نقل کو اپنے کام کیلئے ضروری سمجھتے تھے اور خیال کرتے تھے کہ اگر لوگوں پر یہ ثابت ہوجاوے کہ احمدیوں میں خواجہ صاحب سے زیادہ واقف اورلوگ بھی موجود ہیں تو خود بخود وہ ادھر متوجہ ہوجاویں گے اور اسوقت انکو اصل حال سے آگاہ کیاجاسکتا ہے۔خواجہ صاحب کے طرز عمل کی غلطی پہلے خواجہ صاحب کی حقیقت کھولنے کیلئے ضروری ہے کہ ان ہی کے ایجاد کردہ طریق سے ان کا مقابلہ کیاجاوے۔مگر یہ ان کا خیال غلط تھا۔اگر وہ اس راستہ پر پڑھاتے تو ضرور کچھ مدت کے بعد اسی رنگ میں رنگین ہوجاتے۔جس میں خواجہ صاحب رنگین ہوچکے تھے اور آخر احمدیت سے دُور جا پڑتےان کی نجات اسی میں تھی کہ پہلے کی طرح ہر موقع مناسب پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دعاوی کو پیش کرتے۔اورلوگوں کے آنے یا نہ آنے کی پرواہ نہ کرتےاوریہ بھی ایک وہم تھا کہ لوگ سنیں گے نہیں۔لوگ عموماً شخصیت کی وجہ سے آتے ہیںنہ مضمون لیکچر کے سبب سے۔ایک مشہور شخص ایک معمولی سے معمولی امر کے متعلق لیکچر دینے کیلئے کھڑا ہوجاوے لو گ اسی پر اکھٹے ہوجاویں گے یہ اور بات ہے کہ پیچھے اس پر جرح قدح کریں۔کانپور میں لیکچر مثلاً اسی سفر میں میرا لیکچر کانپور میں ہوا۔چونکہ اشتہار میں کھول کر بتایا گیا تھا کہ لیکچر سلسلہ احمدیہ کے امتیازات پر ہوگا۔خیال تھا کہ لوگ شاید سننے نہ آویں گے مگر لوگ بہت کثرت سے آئے اورجو جگہ تیار کی گئی تھی وہ بالکل بھر گئی اوربہت سے لوگ کھڑے رہے۔ڈیڑھ ہزار یا اس سے بھی زیادہ کا مجمع ہوا۔اورعموماً تعلیم یافتہ لوگ اوراحکام اور تاجر اس میں شامل ہوئے اوراڑھائی گھنٹہ تک نہایت شوق سے سب نے لیکچر سُنا اورجب مَیں بیٹھ گیا تو تب بھی لوگ نہ اُٹھے اورانہوں نے خیال کیا کہ شاید یہ سانس لینے کے لئے بیٹھے ہیں آخر اعلان کیا گیا کہ لیکچر ختم ہوچکا ہے۔اب سب صاحبان تشریف لے جاویں تب لوگوں نے شور مچایا کہ ان کو کھڑا کیاجاوے کہ بہت سے لوگ مصافحہ کرنا چاہتے ہیں۔اور میں نے دیکھا کہ وہ لوگ جو دن کے وقت ہمارے مُنہ پر ہمیں کافر کہہ کر گئے تھے بڑھ بڑھ کر علاوہ مصافحہ کرنے کے میرے ہاتےبھی چومتے تھے۔