انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 209 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 209

آپ کا ہی ذکر ہوتا ہے۔اور یا یہ حال ہوگیا تھا کہ اپریل ۱۹۱۲؁ء میں جبکہ میں ایک وفد کے ساتھ مختلف مدارس عربیہ کو دیکھنے کے لئے اس نیت سے گیا کہ مدرسہ احمدیہ کے لئے کوئی مناسب سکیم تیار کی جاوے۔تو لکھنؤ ،بنارس ،کانپور میں مجھے تقریر یں کرنے کا بھی اتفاق ہوا اورسب جگہ مَیں نے دیکھا کہ وہاں کی جماعتوں کی یہ خواہش ہوتی تھی کہ سلسلہ کا کوئی ذکر نہ ہو۔کیونکہ پھر لوگ سنیں گے نہیں یا سن کہ مخالفت کریں گے۔مگر مَیں نے ان کو جواب دیا کہ مَیں اپنے لیکچروں کی تعریف کا خواہشمند نہیں۔حق سنانے کا خواہشمند ہوں اگر لوگ نہ سنیں گے یا سنکر مخالفت کریں گے تو یہ ان کی مرضی ہے۔مَیں تو خدا تعالیٰ کے حضور بری الذمہ ہوجائوں گا۔لکھنؤ سے تو ایک صاحب نے جو اب میری بیعت میں شامل ہیں حضرت خلیفۃ المسیح کو لکھا کہ کاش! آپ اس وفد کے ساتھ کوئی تجربہ کار آدمی بھی بھیج دیتے۔یہ لوگ اس رنگ میں تبلیغ کرتے ہیں کہ فساد کا خطرہ ہے۔میاں صاحب نوجوان ہیں جوش میں وقت کو نہیں دیکھتے ایسا نہ ہو کہ کوئی خون ہوجائے اور ہم لوگ بدنام ہوں۔اب بھی آپ فوراً ایک ایسے بزرگ کو جو ضرورت زمانہ کو سمجھنے بھیج دیجئے۔جب مَیں واپس آیا تو حضرت خلیفۃ المسیح نے مجھے اس خط کے مضمون پر آگاہ کیا۔اوراس خط پر سخت نفرت کا اظہار فرمایا۔لکھنؤمیں دو لیکچروں کی تجویز تھی۔ایک لیکچر کے بعد گو مخالفوں کی طرف سے بھی کچھ روک ہوئی۔مگر اپنی جماعت نے بھی اس روک کو ایک عذر بنا کر مزید کوشش سے احتراز کیا۔اوردوسرا لیکچر رہ گیا مگر ہم نے ملاقاتوں میں خوب کھول کھول کر تبلیغ کی۔بنارس میں بھی اسی طرح ہوا۔یہاں کی جماعت اس وقت اپنے آپ کو میری ہم خیال ظاہر کرتی تھی مگر اس کا بھی یہی اصرار تھا کہ لیکچر عام ہو۔اوراس کی وجہ وہ یہ بتاتے تھے کہ خواجہ صاحب کے لیکچر کامیاب ہوچکے ہیں ایسا نہ ہو یہ لیکچر کامیاب نہ ہوں تو ان کے مقابلہ میں سُبکی ہو۔مگر مَیں نے نہ مانا۔اورسلسلہ کے متعلق لیکچر دئیے۔لوگ کم آتے۔مگر مَیں نے اپنا فرض ادا کردیا۔تعجب ہے کہ جبکہ لکھنؤ کی جماعت جو اس وقت میرے خیالات سے غیر متفق تھی حضرت خلیفہ اوّل کی وفات پر بیعت میں داخل ہوئی۔جماعت بنارس بیعت سے باہر رہی۔شاید یہ سزا تھی۔اس دنیادرای کے خیالات کی جو ان کے اندر پائے جاتے تھے اورجن کا ذکر اوپر کیا جاچکا ہے۔غرض جماعت کی حالت اس وقت عجیب ہورہی تھی۔ایک طرف تو اس کے دل محسوس کررہے تھے کہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذکر اس طرح ترک کردیا گیا تو آہستہ آہستہ سلسلہ مفقود ہوجائے گا۔دوسری طرف خواجہ صاحب کے طریق تبلیغ کے بعد ان کو یہ خوف تھا کہ لوگ سلسلہ کا