انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 191 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 191

میں نماز کے انتظار میں گھر ٹہل رہا تھا۔ہمارا گھر بالکل مسجد کے متصل ہے۔اس وقت میرے کان میں شیخ رحمت اللہ صاحب کی آواز آئی۔کہ غضب خدا کا ایک بچّہ کو خلیفہ بنا کر چند شریر لوگ جماعت کو تباہ کرنا چاہتے ہیں مَیں چونکہ بالکل خالی الذہن تھا مجھے بالکل خیال نہ گزرا کہ اس بچّہ سےمراد میں ہوں۔لیکن مَیں حیرت سے ان کے اس فقرہ پر سوچتا رہا۔گو کچھ بھی میری سمجھ میں نہ آیا۔واقعات نے ثابت کر دیا کہ ان کا خوف بے جا تھا۔کسی نے تو کسی کو خلیفہ کیا بنانا ہے۔خدا بیشک ارادہ کر چکا تھا کہ اسی بچہ کو جسے انہوں نے حقیر خیال کیا خلیفہ بنادے اوراس کےذریعہ سے دُنیا کے چاروں گو شوں میں مسیح موعودؑ کی تبلیغ پہنچا دے اور ثابت کردے کہ وہ قادر خدا ہے جو کسی کی مدد کا محتاج نہیں اوران لوگوں کی فطرتیں پہلے ہی سے اس امر کو محسوس کر رہی تھیں۔جو خدا تعالیٰ کے حضور میں مقدر تھا غرض حضرت خلیفۃ المسیح کی آمد تک مسجد میں خوب خوب باتیں ہوتی رہیں اور لوگوں کو اونچ نیچ سمجھائی گئی۔آخر حضرت خلیفۃ المسیح تشریف لائے اور نماز شروع ہوئی۔نماز میں آپ نے سورہ بروج کی تلاوت فرمائی۔اور جس وقت اس آیت پر پہنچے کہ اِنَّ الَّذِيْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ لَمْ يَتُوْبُوْا فَلَہُمْ عَذَابُ جَہَنَّمَ وَلَہُمْ عَذَابُ الْحَرِيْقِ (البروج : ۱۱ ) یعنی وہ لوگ جو مؤمن مرد اور مؤمن عورتوں کو فتنہ میں ڈالتے ہیں۔اورپھر اس کام سے توبہ نہیں کرتے۔ان کے لئے اس فعل کے نتیجہ میںعذاب جہنم ہوگا اورجلا دینے والے عذاب میں وہ مبتلا ہوں گے۔اس وقت تمام جماعت کا عجیب حال ہوگیا۔یوں معلوم ہوتا تھا۔گویا یہ آیت اسی وقت نازل ہوئی ہے اور ہر ایک شخص کا دل خشیۃاللہ سے بھر گیا۔اور اس وقت مسجدیوں معلوم ہوتی تھی جیسے ماتم کدہ ہے۔باوجود سخت ضبط کے بعض لوگوں کی چیخیں اس زور سے نکل جاتی تھیں کہ شاید کسی ماں نے اپنے اکلوتے بیٹے کی وفات پر بھی اس طرح کرب کا اظہار نہ کیا ہوگا۔اوررونے سے تو کوئی شخص بھی خالی نہیں تھا۔خود حضرت خلیفۃ المسیح کی آواز بھی شدت گریہ سے رُک گئی اور کچھ اس قسم کا جوش پیدا ہوا کہ آپ نے پھر ایک دفعہ اس آیت کو دہرایا اور تمام جماعت نیم بسمل ہوگئی اور شاید ان لوگوں کے سواجن کےلئے ازل سے شقاوت کا فیصلہ ہوگیا تھا۔سب کے دل دہل گئے۔اورایمان دلوں میںگڑگیا اورنفسانیت بالکل نکل گئی۔وہ ایک آسمانی نشان تھا۔جو ہم نے دیکھا اور تائید غیبی تھی جو مشاہدہ کی۔نماز ختم ہونے پر حضرت خلیفۃ المسیح گھر کو تشریف لے گئے اوران لوگوں نے پھر لوگوں کو حضرت مسیح موعودؑ کی ایک تحریر دکھا کر سمجھانا چاہا کہ انجمن ہی آپ کے بعد جانشین ہے۔لوگوں کے دل چونکہ خشیۃاللہ سے معمور ہورہے تھے اور وہ اس تحریر کی حقیقت سے ناواقف تھے۔وہ اس امر کو دیکھ کر کہ حضرت