انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 182 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 182

مسیح موعودؑنے دیا۔توانہوں نے اس پر بہت کچھ نا امیدی کا اظہار کیا۔اور خیال ظاہر کیا کہ یہ مضمون قدر کی نگاہوں سے نہ دیکھا جاوے گا اور خواہ مخواہنسی کا موجب ہوگا۔مگر حضرت مسیح موعودؑ کو خدا تعالیٰ نے بتایا کہ ’’مضمون بالا رہا‘‘٭چنانچہ حضرت مسیح موعود ؑ نے قبل از وقت اس الہام کے متعلق اشتہار لکھ کرلاہور میں شائع کرنا مناسب سمجھا۔اور اشتہار لکھ کر خواجہ صاحب کو دیا کہ اسے تمام لاہور میں شائع اور چسپاں کیاجائے اور خواجہ صاحب کو بہت کچھ تسلّی اور تشفّی بھی دلائی۔مگر خواجہ صاحب چونکہ فیصلہ کئے بیٹھے تھے کہ مضمون نعوذ باللہ لغو اور بیہودہ ہے انہوں نے نہ خود اشتہار شائع کیا نہ لوگوں کو شائع کرنے دیا۔آخر حضرت مسیح موعود ؑ کا حکم بتا کر جب بعض لوگوں نے خاص زور دیا تو رات کے وقت لوگوں نظروں سے پوشیدہ ہوکر چند اشتہار دیواروں پر اونچے کرکے لگادئیے گئے تا کہ لوگ ان کوپڑھ نہ سکیں اور حضرت مسیح موعود ؑ کوبھی کہا جاسکے کہ ان کے حکم کی تعمیل کردی گئی ہے۔کیونکہ خواجہ صاحب کے خیال اور حضرت مسیح موعودؑ کو بھی کہا جاسکتے کہ ان کے حکم کی تعمیل کردی گئی ہے۔کیونکہ خواجہ صاحب کے خیال میں وہ مضمون جس کی نسبت خدا تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ ’’بالارہا‘‘ اس قابل نہ تھا کہ اسے ایسے بڑے بڑے محققین کی مجلس میں پیش کیاجاوے۔آخر وہ دن آیا جس دن اس مضمون کو سنایا جانا تھا۔مضمون جب سنایا جانا شروع ہوا تو ابھی چند منٹ نہ گزرے تھے کہ لوگ بُت بن گئے اور ایسا ہوا گویا ان پر سحر کیا ہوا ہے وقت مقررہ گزرگیامگر لوگوں کی دلچسپی میں کچھ کمی نہ آئی اور وقت بڑھایا گیا مگر وہ بھی کافی نہ ہوا۔آخر لوگوں کے اصرار سے جلسہ کا ایک دن اوربڑھایا گیا اور اس دن بقیہ لیکچر حضرت مسیح موعود کا ختم کیاگیا۔مخالف اور موافق سب نے بالا تفاق کہا کہ حضرت مسیح موعود ؑکا لیکچر سب سے بالا رہا اورخدا تعالیٰ کی بتائی ہوئی بات پوری ہوئی۔مگر اس زبردست پیشگوئی کو خواجہ صاحب کی کمزوری ایمان نے پوشیدہ کردیا۔اب ہم ان واقعات کو سناتے ہیں۔مگر کُجا ہمارے سنانے کا اثر اور کجا وہ اثر جو اس اشتہار کے قبل از وقت شائع کردینے سے ہوتا۔اس صورت میں اس پیشگوئی کو جو اہمّیت حاصل ہوتی ہر ایک شخص بخوبی ذہن میں لاسکتا ہے۔خواجہ صاحب کی احمدیت کے مغزسے ناواقفیت اسی قسم کے اوربہت سے واقعات ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ خواجہ صاحب نے احمدیت کے مغز کو نہیں پایا تھا اوران کا احمدیت میں داخل ہونا درحقیقت اس احسان کا نتیجہ تھا جو حضرت مسیح موعودؑ نے ان پر کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر دشمنوں کی طرف سےبعض مقدمات ہوئے ان میں خواجہ صاحب پیروکار ہوتے تھے۔اس دوران میں بھی خواجہ صاحب نے بعض کمزوریاں جن کے بیان کرنے کا یہاں موقع نہیں۔*حقیقة الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ ص ۲۹۱