انوارالعلوم (جلد 6) — Page 183
۱۹۰۵ ء میں ’’وطن ‘‘اخبار کی ایک تحریک پر کہ ریویو آف ریلجنز میں سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذکر نکال دیا جاوے اور عام اسلامی باتیں ہوں تو غیر احمدی بھی اس میں مدد کریں گے۔خواجہ صاحب تیا ر ہوگئے کہ ایسا ہی کرلیاجاوے اور یہ فیصلہ بھی کرلیا کہ ایک ضمیمہ ریویو کے ساتھ ہو جس میں کہ سلسلہ کے متعلق ذکر ہو اصل رسالہ میں عام باتیں ہوںاس فیصلہ پر اس قدر شور ہوا کہ آخر ان کو دبنا پڑا اور یہ تجویزخواجہ صاحب کے دل ہی دل میں رہ گئی۔مگر خواجہ صاحب اور مولوی محمد علی صاحب کی اس تحریک سے ایک شخص ڈاکٹر عبدالحکیم مُرتدکوجو مدت سے گندے عقائد میں مبتلا تھا جرأت ہوگئی اوراس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اس بارہ میں خط وکتابت شروع کردی اور گو محرّک اس خط و کتابت کا خواجہ صاحب کا سمجھوتہ تھا۔جو ایڈیٹر وطن سے ریویو کے متعلق کیا گیا تھا۔مگر دراصل اس خط وکتابت میں بعض ایسے عقائد کی بنیاد پڑگئی جو آئندہ کے لئے غیر مبائعین کے عقائد کا مرکزی نقطہ قرار پائے۔عبدالحکیم نے ابتداء ۱۹۰۶ءمیں حضرت مسیح موعودؑ کو سب سے پہلا خط لکھا تھا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ ۱ - سوائے ان کے جو ہمیں کا فرکہتے ہیں باقی کے پیچھے نماز جائز ہونی چاہئیے۔۲ - ریویو آف ریلیجنز کے متعلق جو تجویز خواجہ صاھب اور مولوی محمد علی صاحب نے کی تھی اسے مان لیا جاوے اور اس پر عمل کیا جاوے۔۳ - حضرت مسیح ؑ کا وجود خاسدم اسلام ہے نہ اصل اسلام پس آپ کے وجود کو پیش کرنے کی خاطر اسلام کی اشاعت میں روک نہ ڈالی جاوے۔۴ - عام قاعدہ حکمت کے ماتحت پہلے شرک بدعت وغیرہ بڑے مسائل لوگوں کے سامنے پیش کئے جاویں پھر حضرت مسیح موعودؑ کی ذات کو پیش کیا جاوے۔۵ - صرف وفاتِ مسیح پر اس قدر زور نہ دیا جاوے دوسرے مسائلِ اسلام کی طرف بھی توجہ کی جاوے۔۶ - احمدیوں کی اخلاقی حالت بہت گری ہوئی ہے ان کی عملی حالت کی درستی کی طرف خاص توجہ کی جاوے۔۷ - ہماری جماعت کا مشنری کام بہت سُست ہے اس کی طرف خاص توجہ کی جائے ہم غیر احمدی مسلمانوں سے سلام تک ترک کی بیٹھے ہیں حالانکہ عدم تبلیغ کے مجرم ہم ہیں،۔۸ - اسلام کی طرف سچّی رہبر فطرتِ صحیحہ اور سچّی تعلیم ہے نہ کہ محض پیشگوئیاں۔پس قرآنی تعلیم کو مردہ قرار