انوارالعلوم (جلد 6) — Page 156
دہرانے کے میرا دل بند ہوتا جاتا ہے اور مَیں نے محسوس کیا کہ میں اگر اس طریق کو جاری رکھوں گا تو بیمار ہوجاؤں گا۔آخر دوسرے دن میں نے عبدالمحیی صاحب عرب سے کہا کہ مَیں تو بوجہ ادب دریافت نہیں کرسکتا۔آپ دریافت کریں کہ کیا جناب نانا صاحب کو حضرت خلیفۃ المسیح نے خاص حکم دیا تھا یا عام سنی ہوئی بات ہے۔انہوں نے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ خاص حکم نہیں دیا تھا بلکہ کسی اور شخص کے متعلق یہ بات آپ نے سُنی تھی اس پر مَیں نے شکر کیا اور باوجود لوگوں کے روکنے کے برابر الگ نماز ادا کرتا رہا۔اور بیس دن کے قریب جو ہم وہاں رہےیا گھر پر نماز پڑھتے رہے یا مسجد کعبہ میں الگ اپنی جماعت کراکے اور اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ گو مسجد کعبہ میں چاروں مذہبوں کے سوا دوسروں کو الگ جماعت کی عام طور پر اجازت نہیں۔مگر ہمیں کسی نے کچھ نہیں کہا بلکہ پیچھے رہے ہوئے لوگوں کے ساتھ مل جانے سے بعض دفعہ اچھی خاصی جماعت ہوجاتی تھی۔چونکہ جناب نانا صاحب کو خیال تھا کہ ان کے اس فعل سے کوئی فتنہ ہوگا۔انہوں نے قادیان آکر حضرت خلیفۃ المسیح کے سامنے یہ سوال پیش کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ہماری واپسی کی خوشی میں قادیان کے احباب یکے بعد دیگرے دعوت کر رہے تھے کہ ایک دن حضرت مسیح موعودؑ کے پُرانے خادم میاں حامد علی صاحب نے جو چالیس ۴۰ سال حضرت کے پاس رہے ہیں۔ہمارے چائے کی دعوت کی۔حضرت خلیفہ اوّل،میر صاحب،مَیں اور سیّد عبدالمحی عرب مدعو تھےایک صاحب حکیم محمد عمر نے یہ ذکر حضرت خلیفہ المسیح کے پاس شروع کردیا۔آپ نے فرمایا۔ہم نے ایسا کوئی فتویٰ نہیں دیا۔ہماری یہ اجازت تو ان لوگوں کے لئے ہے جو ڈرتے ہیں اور جن کے ابتلاء کا ڈر ہے۔وہ ایسا کرسکتے ہیں کہ اگر کسی جگہ گِھر گئے ہوں۔تو غیر احمدیوں کےپیچھے نمازیں پڑھ لیں۔اورپھر آکر دہرالیں۔سو الحمداللہ کہ میرا یہ فعل جس طرح حضرت مسیح موعودؑ کے فتویٰ کے مطابق ہوا۔اسی طرح خلیفہ وقت کے منشاء کے ماتحت ہوا۔ایک اعتراض اور اس کا جواب شایداس جگہ کسی شخص کو یہ خیال گزرے کہ حضرت مسیح موعودؑ کے فتویٰ کی موجودگی میں حضرت خلیفۃ المسیح کا حکم سُن کر کیوں غیروں کی اقتداء میں نماز ادا کی۔تو اس کا یہ جواب ہے کہ صحابہ کے طریقِ عمل سےیہ امر ثابت ہے کہ وہ خلیفہ ٔ وقت کے حکم کا ادب ضروری سمجھتے تھے خواہ اسے تسلیم نہ ہی کرتے ہوں۔چنانچہ بخاری اور دیگر کتب احادیث و تواریخ سے ثابت ہے کہ حضرت عثمانؓنے جب ایک دفعہ خلاف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے منیٰ میں حج کے دنوں میں (سفر کے ایام) بجائے دو کے چار رکعت ہی ادا کی تو بعض صحابہؓ میں جوش ہوا۔لیکن سب نے آپ کے پیچھے چار رکعت ہی نماز ادا کرلی۔حضرت عبدالرحمٰن