انوارالعلوم (جلد 6) — Page 137
اس میں لفظ خاتم النبیّٖن پر بڑی بسط اور تفصیل سے بحث کی گئی ہے اور اس کے علاوہ اور بہت سے مفید اور قیمتی مضمون اس میں شامل ہیں۔اور بہت سے شبہات اور اعتراضات کو نہایت مدللّ طور سے دُور کیا گیا ہے۔بہت سی قرآنی آیات پر لطیف پیرایہ میں بحث کی گئی ہے۔قرآن شریف نے جو نشانات ایک سچّے مرسل کے لئے مقرر فرمائے ہیں ان کو آیات کے حوالہ کے ساتھ پیش کیا گیا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ان کو چسپاں کرکے دکھادیا ہے۔بعض نئے قسم کے چکڑالوی وساوس کا بھی خوبی سے ازالہ کیا گیا ہے۔کتاب واقعی قابلِ دید ہے۔کاغذ اور چھپائی بھی اچھی ہے‘‘۔(ریویو آف ریلیجنز۔ماہ اکتوبر ۱۹۱۱ءجلد ۱۰ صفحہ ۳۹۷،۳۹۸) مولوی محمد علی صاحب کا ایک عذر اور اس کا جواب میں نے سُنا ہے کہ مولوی محمد علی صاحب کہتے ہیں کہ اس زمانہ میں ترجمہ قرآن کے کام کے باعث مَیں ریویو کی طرف زیادہ توجہ نہیں کرتا تھا۔اس لئے اس وقت کے شائع شدہ مضامین مجھ پر حُجّت نہیں ہوسکتے۔ہم ان کے اس بیان کو بھی تسلیم کرلیتے ہیں۔مگر ہمارا یہ دعویٰ نہیں۔کہ مولوی محمد علی صاحب کی قلم سے ہی وہ ریویو نکلا ہے۔اس لئے حجت ہے۔بلکہ ہمارا یہ دعویٰ نہیں۔کہ جماعت نے ہرگز اس کتاب کو اس نظر سے نہیں دیکھا۔جس کا اظہار اب مولوی محمد علی صاحب کرتے ہیں کیونکہ صدر انجمن احمدیہ کے آرگن میں اس کتاب کو پڑھنے کے بعد اس کے ایڈیٹﷺریل سٹٓف کی طرف سے خواہ مولوی محمد علی صاحب کی قلم سے یا کسی اور کی قلم سے اس کتاب پر ایک نہایت زور دار ریویو نکلا ہے۔اگر واقع میں وہ ایسی ہی کتاب ہوتی تو ایسا کیوں کیا جاتا۔یاد رکھنا چاہئے کہ مضمون اور ریویو میں فرق ہوتا ہے۔مضمون بعض دفعہ ایڈیٹر اپنی رائے کی مخالف بھی چھاپ دیتا ہے۔کیونکہ ضرور ی نہیں کہ ہرایک رائے اس کے مطابق ہو۔مگر تعریفی رائے ظاہر کرتی ہے کہ ریویو کا ایڈیٹوریل سٹاف اس کتاب کے مصنف کا ہم خیال تھا۔اوراگر ریویو لکھنے والے نے غلطی کی تھی تو چاہئے تھا کہ احمدیہ جماعت میں سے کوئی اور شخص اس کے خلاف آواز اُٹھاتا یا کم سے کم جب بقول مولوی صاحب کے حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل نے ظہیرالدین کے اس کتاب کو پڑھ کر اور اس سے خط و کتابت کرکے اس کے اخراج کااعلان کیا تھا۔اسی وقت صدر انجمن احمدیہ جس کے رسالہ میں وہ ریویو شائو ہوا تھا یا مولوی محمد علی صاحب جو گو عملاً رسالہ کے ایڈیٹر نہ ہوں۔مگر لوگوں کی نظروں میں انہی پر رسالہ کی ایڈیٹری کی ذمہ داری تھی۔یا خود ریویو نویس کی طرف سے اس زہر کا ازالہ کیا جاتا۔جو اس ریویو کے ذریعہ سے جماعت میں پھیلایا گیا تھا اور لوگوں کو بتایا جاتا کہ اس کتاب میں ایسے گندے مضامین ہیں کہ جن کے باعث حضرت خلیفۃ المسیح کو ظہیر الدین کوجماعت