انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 138 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 138

سے خارج کرنا پڑا ہے جو کچھ تعریف اس کتاب کی ہمارے رسالہ میں شائع ہوئی ہے وہ غلطی سے کی گئی ہے اس سے کوئی شخص دھوکا نہ کھاوے۔ظہیر کی معافی اور توبہ کے اعلان میں الحکم کا اسکے رسالہ نبی اللہ کا ظہور کی تعریف کرنااور اسے سلسلہ کی بہت بڑی خدمت بتانا ریویو آف ریلیجنز میں اس کتاب پر تعریفی ریویو نکلنےکے علاوہ ایک اور زبردست ثبوت مولوی محمد علی صاحب کے دعویٰ کے بطلان میں یہ ہے کہ ظہیر الدین کی جماعت سے اخراج اورپھر اس کی معافی کے تمام واقعات حضرت خلیفۃ المسیح الاوّؒ ل کی زندگی میں سلسلہ کے سب سے پہلے اخبار الحکم میں بتفصیل شائع ہوئے ہیں۔خود اسی مضمون میں اس کتاب کی تعریف لکھی ہوئی ہے۔یہ کیونکر ہوسکتا تھا کہ ظہیر الدین کی معافی کا اعلان کرتے وقت الحکم اسی کتاب کی تعریف کرتا جس کی اشاعت کی وجہ سے ظہیر الدین کو کارج از جماعت کیا گیا تھا ور اسے معافی مانگنی پڑی تھی۔کیا جرم میں خود ایڈیٹر الحکم کو حضرت خلیفۃ المسیح جماعت سے نہ نکال دیتے کیا یہ ممکن تھا کہ ادھر تو ایڈیٹر الحکم یہ لکھتا کہ ظہیر الدین سے قصور ہوگیا تھا۔اب وہ معافی مانگتا اور پریشان ہوتا ہے اور ساتھ ہی وہی قصور خود کرتا اور اس زہریلی کتاب کی تعریف کرتا۔ہر ایک شخص الحکم کے الفاظ کو پڑھ کر معلوم کرسکتا ہے کہ ظہیر الدین کا اخراج از جماعت اس کتاب یا اس کے ہم معنے کسی ٹریکٹ کی بناء پر نہ تھا (یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے۔کہ اس وقت تک ظہیر الدین نے اس کتاب کے ہم معنی یا اس کے مضمون کے متعلق کوئی ٹریکٹ شائع ہی نہ کیا تھا) الحکم ظہیر الدین کے اخراج از جماعت اور پھر معافی مانگنے کے متعلق نوٹ لکھتے ہوئے تحریر کرتا ہے:- ’’مولوی ظہیر الدین صاحب نے نبی اللہ کا ظہور اور دید کا فتور اور رد چکڑالوی لکھ کر جو خدمت سلسلہ کی کی ہے۔وہ اس قابل نہیں کہ ہم اس کو بھول جاویں۔‘‘ یہ الفاظ صاف طور پر ظاہر کر رہے ہیں کہ کتاب نبی اللہ کا ظہور ظہیر الدین کے اخرج کا محرّک نہ تھی۔کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو اس کے اخراج کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے سلسلہ کا یہ سب سے پہلا اخبار کبھی اس کتاب کو ایسے تعریفی الفاظ سے یاد نہ کرتا۔ایک اور شہادت جو مولوی محمد علی صاحب کے اپنے بیان پر مبنی ہے ایک اور شہادت بھی مولوی محمد علی صاحب کے دعویٰ کے جھوٹے ہونے کے متعلق ہے اور وہ یہ کہ اگر مولوی محمد علی صاحب کے نزدیک اس کتاب کے مضامین کی