انوارالعلوم (جلد 6) — Page 131
امر کی تردید فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں۔کہ جب مَیں نے صاف لکھ دیا تھا کہ اس اعلان میں تمہاری طرف اشارہ نہیں تو پھر تم نے کیوں لکھا کہ مجھے آپ سے اختلاف ہے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہا ٓپ اس وقت تک ظہیر الدین اور اپنےعقائد میں اختلاف نہیں سمجھتے تھے۔اور ظہیر الدین کی اس تحریر کو کہ مجھے آپ کے عقائد سےاختلاف ہے۔بلا سبب اوربے تصور فرماتے تھے۔کیا حضرت خلیفہ اوّل نے نبی اللہ کا ظہور پڑھ کر ظہیر سے خط و کتابت شروع کی دوسراامر جو مولوی محمد علی صاحب نے واقعہ ظہیر کے بیان کرنے میں غلط بیان کیا ہے یہ ہے کہ ظہیر کی کتاب پڑھ کر حضرت خلیفۃ المسیح نے اس سے خط و کتابت شروع کی۔حالانکہ خط و کتابت حضرت خلیفۃ المسیح نے ظہیر سے شروع نہیں کی۔بلکہ ظہیر نے شروع کی ہے اور مولوی محمد علی صاحب نے جو ایسے الفاظ تحریر کئے یں جن سے یہ مفہوم نکلتا ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح نے خط و کتابت شروع کی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ظہیر الدین کی کتاب پڑھ کر آپ نے اسے ناپسند کیا اور اسے اس کے متعلق خط لکھا۔حالانکہ جیسا کہ اس وقت کے شائع شدہ واقعات سے ثابت ہے ابتداء خط و کتابت کی ظہیر نے کی ہے۔اوراس کی وجہ جیسا کہ الحکم مؤرخہ ۱۴ ؍اکتوبر ۱۹۱۲ء سے ثابت ہے۔یوں ہوئی کہ حضرت خلیفۃ المسیح ایک تقریب پر لاہور تشریف لے گئے تھے۔وہاں آپ نے ان اختلافی مسائل پر جو آج غیر مبائعین اور مبائعین میں مابہ النزاع ہیں ایک تقریر فرمائی۔جس میں ایڈیٹر زمیندار بھی موجود تھا۔اس نے اپنے اخبار میں اس تقریر کی ایک غلط رپورٹ شائع کردی۔٭اور لکھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح تمام غیر احمدیوں کو مسلمان قرار دیا ہے۔ظہیر الدین نے زمیندار کی اس رپورٹ کو پڑھ کر بلا سوچے سمجھے نہایت بے ادبی اور گستاخی کو کام میں لاکر حضرت خلیفۃ کوایک خط لکھ دیا جس میں آپ کے عقائد پر حملہ کیا اوران کو حضرت مسیح موعودؑکے عقائد کے خلاف قرار دیا اس پر حضرت خلیفۃالمسیح نے اسے نہایت محبّت سے جواب دیا اور سمجھایا۔لیکن چونکہ اس کی طبیعت میں رُشد و ہدایت نہ تھی۔وہ اپنی شوخی میں بڑھتا ہی گیا اور باوجود اس کے کہ حضرت کی تصحیح کردہ تقریر الحکم میں شائع ہو چکی تھی۔اورپھر باوجود اس کے کہ بعض اُمور جو اس *یہ رپورٹ غلط تھی۔ایڈیٹر الحکم نے حضرت کی سب تقریر قلم کی تھی۔اور پھر حضرت خلیفة المسیح کو تمام و کمال دکھا کر اور آپ سے درست کروا کر اپنے اخبار میں شائع کی تھی اور اس مصدقہ تقریر اور زمیندار کے خلاصہ میں بہت فرق تھا۔