انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 77 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 77

انوار العلوم جلد 4 کی صداقت میں کبھی شبہ نہ ہوا ۔ بیعت کرنیوالوں کیلئے ہدایات ایک اور صحابی کا ذکر ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک یہودی سے لین دین کا معاملہ تھا اس کے متعلق رسول کریم نے جو کچھ فرمایا اسے سنکر صحابی نے کہا یا رسول اللہ یہی درست ہے جو آپ فرماتے ہیں ۔ رسول کریم نے کہا یہ معاملہ تو میرے اور اس کے درمیان ہے تم کو کسی طرح معلوم ہے کہ جو کچھ میں کہتا ہوں وہ درست ہے ۔ صحابی نے کہا یا رسول اللہ جب آپ خدا کے متعلق باتیں بتاتے ہیں اور ہم مانتے ہیں کہ سچی ہیں تو اب جبکہ آپ ایک بندہ کے متعلق فرماتے ہیں تو یہ جھوٹ کس طرح ہو سکتا ہے اسی وجہ سے میں نے کہا ہے کہ جو کچھ آپ فرمارہے ہیں درست ہے۔ یہ سنکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صحابی کے متعلق فرمایا۔ اس کا ایسا ایمان ہے کہ جہاں دو اس ایسا آدمیوں کی شہادت کی ضرورت ہو وہاں اس ایک کی ہی کافی سمجھی جائے * ان لوگوں کے دلوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صداقت کیوں اس طرح گر گئی تھی اور کیوں ان کے دل میں کوئی شک و شبہ نہیں پیدا ہوتا تھا اس کی وجہ یہی ہے کہ انہیں رسول کریم کی صداقت کے دلائل معلوم ہو گئے تھے ۔ یہ میں نے حضرت مرزا صاحب کا دعویٰ اور چند موٹی موٹی باتیں بتائی ہیں۔ اب آپ کی صداقت کے متعلق بیان کرتا ہوں ۔ حضرت مرزا صاحب کی صداقت کی پہلی دلیل فَقَدْ يَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُراً من قَبْلِهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ (یونس : ١) کے معیار کو ہی دیکھیں - اس (قادیان) گاؤں میں ہندو اور غیر احمدی رہتے ہیں اور ایسے لوگ ہیں جو حضرت مرزا صاحب سے ملتے اور آپ سے تعلق رکھتے تھے ان کو مخاطب کر کے آپ لکھتے رہے کہ بتاؤ میں نے کبھی کسی سے فریب ، دھوکا ، دغا بازی کی ،کسی کا مال ناجائز طریق سے لیا ، کسی پر ر کوئی ظلم اور سختی کی ، کبھی جھوٹ بولا ۔ اگر نہیں تو پھر میں خدا پر کس طرح جھوٹ بولنے لگ گیا۔ پھر ایسے بھی لوگ موجود تھے جو آپ کے دشمن تھے آپ سے عداوت رکھتے تھے اور آپ کو نقصان پہنچانے کے درپے رہتے تھے مگر کوئی سامنے کھڑا نہ ہوسکا اور محمدحسین بٹالوی جس نے آپ پر کفر کا فتویٰ لگایا اس نے بھی اقرار کیا کہ پہلی زندگی اچھی تھی۔ اس سے ہر ایک عقل مند انسان سمجھ سکتا ہے کہ جب پہلی زندگی اعلیٰ درجہ کی اور پاک تھی تو دھوئی کے بعد کیا ہو گیا وہ زندگی کیوں اعلیٰ ابوداؤد كتاب الاقضية باب اذا علم الحاكم صدق الشاهد الواحد يجوز له ان يحكم به