انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 64 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 64

۶۴ انوار العلوم جلد معیار صداقت کی مگر یہ حضرت مرزا صاحب کی صداقت ہے کہ وہ لوگ یہاں آئے اور خدا کی پیشگوئی پوری ہوئی۔ آئندہ کیلئے حضرت مسیح موعود کی پیشگوئیاں حضرت صاحب نے آئندہ کے لئے پیشگوئی فرمائی ہے کہ آئندہ آپ ہی کا سلسلہ سلسلہرہ رہ جائیگا اور باقی فرقے بالکل کم تعداد اور کم حیثیت رہ جائیں گے اور ہم اس کے آثار دیکھ رہے ہیں اور اس کا کچھ اور حصہ ہم اپنی زندگی میں دیکھیں گے ۔ ان کو اپنی کثرت پر گھمنڈ ہے لیکن یہ یاد رکھیں کہ ان کی کثرت کو قلت سے بدل دیا جائیگا اور ان کی کثرت چھین کر خدا کے پیارے کو دی جائے گی اور وہ قلت جو آج ہمارے لئے قابل ذلت خیال کی جاتی ہے کل ان کو ذلیل کریگی۔ ہم تھوڑے ہیں لیکن وہ یاد رکھیں زمانہ ختم نہیں ہوگا اور قیامت نہیں آئیگی جب تک حضرت مرزا صاحب کے ماننے والے ساری دنیا پر نہ پھیل جائیں۔ یورپ میں احمدیت ہوگی ، امریکہ میں احمدیت ہوگی، چین و جاپان ، عرب و ایران و شام غرض ساری دنیا میں احمدیت ہی احمدیت ہوگی ۔ ان سب ممالک کو خدا کا کلام سنایا جائیگا اور ایک دن وہ ہو گا ہوگا کہ خدا کا سورج احمد یوں ہی احمدیوں پر چڑھے گا۔ حضرت مرزا صاحب کی پیشنگوئیاں ہیں جو پوری ہونگی۔ یہ تو عام پیشگوئی ہے لیکن ایک ملک کے متعلق ایک خاص پیشگوئی بھی ہے جو میں سناتا ہوں ۔ حضرت مرزا صاحب نے فرمایا ہے کہ زار روس کا عصا مجھے دیا گیا اور امیر بخارا کی کمان آپ کو ملی ۔ (مضموماً تذکرہ ۴۵۰ ایڈیشن چهارم ) پس ہم امید کرتے ہیں کہ روس کی حکومت عنقریب احمدی ہوگی ۔ زار کی سلطنت مٹ چکی ہے عصاء زار روس سے چھینا جا چکا ہے اور آدھا حصہ پیشگوئی کا پورا ہوچکا ہے مگر اب دوسرا حصہ بھی اور دنیا اپنی آنکھوں سے خدا کے مقدس کی صداقت کو دیکھ لے گی۔ کیا یہ شاندار استقبال نہیں کہ جماعت ایک سے کئی لاکھ ہو گئی اور ایک نکلتا ہے تو اس کی جگہ بیسیوں کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ کیا ان اصول کے مطابق آپ کی صداقت میں شک کیا جا سکتا ہے۔ تینوں کے تینوں زمانے آپ کی صداقت کی گواہی دے رہے ہیں۔ کی غرض ثبوتوں اور اُصولوں کو دیکھنا چاہئے محض اعتراض پر پڑے رہنا کوئی بات نہیں۔ یہ ایک لغو بات ہے ۔ قرآن جو اصول بتاتا ہے اس کے رو سے آپکی صداقت ظاہر و باہر ہے ۔ اعتراض ہوتے ہیں ان کے لئے اُصول بھی ہوتے ہیں ۔ جب تک کسی اصول کے ماتحت گفتگو نہ ہو دنیا میں کوئی مسلہ نہیں حل ہو سکتا۔ جماعت کو نصیحت اب میں اپنی جماعت کو بھی ایک نصیحت کرتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ