انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 46 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 46

انوار العلوم جلد 4 ۴۶ معیار صداقت تیسری سے جنگ رکھے اس وقت تک کبھی امن نہ ہو گا، جرمن و فرانس کی جنگ اسی لئے ہوئی جب ایک طرف دھڑا بندی ہوئی تو دوسری طرف بھی ایسا ہی ہوا ۔ یہ طریق امن کے بحال کرنے کا غلط ہے۔ ہم لوگ ساری دنیا ے مل کرنا چاہتے ہیں ہم ایک کو پامال کرنے کے لئے دوسرے سے صلح نہیں کر سکتے۔ بلکہ ہم سب سے صلح کے خواہاں ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم کہتے ہیں کہ ہندو مسلم اتحاد ہی کی ضرورت نہیں بلکہ ساری دنیا سے اتحاد اور صلح کرو تب کامیابی ہوگی ۔ پنجاب پنجا کے ایک مشہور پیر صاحب کا بے اصول این یا ان لوگوں کا بے اصول این ہے کہ کتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں۔ یہ حالت انکی سیاسی طور پر ہی نہیں مذہبی طور پر بھی ہے۔ پنجاب کے ایک مشہور پیر صاحب ہیں۔ ایک مقام پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا لیکچر تھا۔ انھوں نے احمدیوں سے کلام کرنے والے اور جو ان کے لیکچر میں جائے اس کے نکاح کے ٹوٹنے کا فتویٰ دیدیا تھا۔ باوجود اس کے بہت سے لوگ لیکچر میں حب آئے اور کہا کہ نکاح تو سوار و پیہ میں پڑھا جاتا ہے یہ موقع تو پھر شاید ملے یا نہ ملے ۔ غرض ان پیر صاحب کا یہ فتویٰ تھا مگر اس فتویٰ کے خلاف خود ان کی حالت یہ تھی کہ حضرت خلیفہ اول کے وقت میں مجھ کو کی کام کے لئے لاہور جانے کا اتفاق ہوا ۔ میں جب واپس آرہا تھا تو لاہور کے اسٹیشن پر میرے ساتھ میاں محمد شریف صاحب بھی تھے جو آجکل امرتسر میں ای۔ اے سی ہیں اور اور دوست بھی تھے۔ جب ہم گاڑی کے قریب آئے تو ایک گاڑی میں سر پر سبز کپڑا ڈالے وہ پیر صاحب بیٹھے تھے اور کھڑکی کے پاس کچھ لوگ جمع تھے۔ میاں محمد شریف صاحب نے مجھے کہا کہ میرے خیال میں یہ فلاں پیر صاحب ہیں ۔ اگر چہ میں نے ان کو کبھی دیکھا تو نہیں مگر قرائن سے سمجھتا ہوں کہ وہی ہیں۔ انھوں نے مشورہ دیا کہ چونکہ ہمارے بہت عید ہیں اس لئے بہتر ہو کہ آپ دوسرے کمرے میں بیٹھ جائیں۔ مجھے ان کی یہ بات پسند نہ آئی ۔ مگر تا ہم انہوں نے اور کمرہ دیکھا اور چونکہ اور کوئی کمرہ اس درجہ کا نہ تھا اس لئے میں اسی میں بیٹھ گیا۔ گاڑی چلنے سے پیشتر لوگوں نے کہا پیر صاب ۔ کچھ کھانا حاضر کریں۔ پیر صاحب نے کہا کہ نہیں مجھے بالکل اشتہاء نہیں، لیکن جب گاڑی علی تو اپنے نوکر سے کہا کہ کچھ کھانے کو ہے تو مجھے دے سخت بھوک لگی ہوئی ہے ۔ اس نے کہا کہ میرے پاس تو کچھ نہیں ۔ پیر صاحب نے کہا مجھ سے تو بھوک برداشت نہیں ہو سکتی ۔ اس نے کہا کہ میانمیر تک صبر کریں وہاں کھانے کا بندو بست کر دونگا ۔ پیر صاحب نے کہا کہ مجھ سے وہاں تک بھی برداشت نہیں ہو سکتی ۔ میں ان کی اس بات پر حیران ہوا کہ جب اتنی بھوک تھی اور لوگ کھانا لانے کو کہ رہے