انوارالعلوم (جلد 6) — Page 45
محض سلطنت کی۔لیکن ان کا خیال تو جب اور جس طرح پورا ہوگا،اسی سے ظاہر ہے کہ جو کچھ ان کے پاس تھا اسے بھی کھورہے ہیں اور ہم اپنے ارادے میں کامیاب ہورہے ہیں۔کیونکہ ہمارا یقین ہے اور سچّا یقین ہے کہ جب یورپ مسلمان ہوگا تو اس کی حکومتیں بھی مسلمان ہونگی۔ہم گویا ایک پتھر سے دو شکار کر رہے ہیں اور یہ اپنے ایک پتھر کو یونہی ہوا میں اُچھال رہے ہیں۔پس ہمارا اصل مدعا حکومت نہیں مذہب ہے اور ان کو مذہب سے واسطہ نہیں حکومت چاہتے ہیں۔مگر ہم اپنے کام کے ثمر دیکھ رہے ہیں کہ وہ یورپ جو اسلام کا دشمن کہا جاتا ہے اور ہے اس میں ایسے لوگ پیدا ہورہے ہیں جو رات کو نہیں سوتے جب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نہ بھیج لیں۔حکومت اعلیٰ اخلاق سے ملتی ہے پس ہم کہتے ہیں کہ جو اعلیٰ مقصد ہے اس پر چلو۔مگر یہ ہمیں ادنیٰ مقصد کی طرف کھینچ رہے ہیں۔حکومت قابلیت اور اخلاق سے آتی ہے اور ان کے پاس نہ قابلیت ہے نہ اخلاق ہیں۔پھر محض شور سے کیا بن سکتاہےاگر ان کا مذہب درست ہوجائے تو ان کی سب باتیں درست ہوسکتی ہیں۔ورنہ بغیر اخلاق کی درستی کے کچھ نہیں ہوسکتا۔ہندو مسلم اتحاد کی حقیقت یہ لوگ ہندو مسلم اتحاد کو لئے پھرتے ہیں مگرا ن کے دل ایک دوسرے کے بغض سے بھرے ہوئے ہیں۔وہ ظاہر میں اتفاق و اتحاد کے گیت گاتے ہیں مگر باطن میں ایک دوسرے کو بیخ و بُن سے اُکھاڑ پھینکنے کے درپے ہو رہے ہیں۔ہم سے بعض مسلمانوں نے جو بڑے اتحاد کے حامی ہیں کہا کہ یہ پالسیی ہے جب انگریز نکل گئے تو ہم کابل کی مدد سے ہندوئوں کو اپنے ماتحت کرلیں گے۔اسی طرح چونکہ ہندو ہمیں ان سے الگ سمجھتے ہیں اس لئے بعض خیالات ہم پر ظاہر کر دیتے ہیں۔ان میں سے بعض نے کہا کہ ہم ۲۲ کرورڑ ہیں انگریز جالیں پھر ہم ان مسلمانوں کو قابو کرلیں گے۔پس جو صُلح کرتے ہیں اور اس نیّت سے کرتے ہیں۔جو محبّت کا ہاتھ بڑھاتے ہیں اور ان کے دل میں اسقدر کپٹ ہے وہ کب اپنے مقصد میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔تمام دُنیا سے صلح کرو لیکن ہم کہتے ہیں کہ اگر یہ صلح ہو بھی جائے تو بھی اس صلح کے باوجودپھر جنگ ہی رہی کیونکہ آپس میں تو صلح کرنا چاہتے ہیں مگر انگریزوں سے جنگ کرتے ہیں۔مگر جب تک دُنیا میں یہ صورت رہیگی کہ ایک قوم دوسری سے صلح اس لئے کریگی کہ