انوارالعلوم (جلد 6) — Page 535
کی وجہ سے ہے ہم لوگ مسلمان ہیں اور ہمیں اس نام پر فخر ہے لیکن باوجود اس کے ہم میں سے اور دوسرے مسلمانوں میں ایک عظیم الشان خندق حائل ہے کیونکہ ہم ان لوگوں کی طرح جو آج سے انیس سو سال پہلے خدا کے ایک برگزیدہ کی آواز پر لبیک کہنے والے تھے اس وقت کے ما ٔمور حضرت مرزا غلام احمد صاحگب ساکن قادیان ضلع گورداسپور کے ماننے والے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود بنا کر بھیجا ہے اور ہمارے دوسرے بھائی ان لوگوں کی طرح جنہوں نے حضرت مسیحؑ کا انکار کردیا تھا اس کے منکر ہیں ہمارا یقین ہے کہ آنےوالا مسیح مسیح ؑکےرنگ میں آنیوالا تھا نہ کہ خود مسیح ؑنے آنا تھا۔ہمارے سلسلہ کی بنیاد اکتیس سال سے پڑی ہے اور باوجود سخت سے سخت مظالم کے جو ہمیں برداشت کرنے پڑے ہیں اس وقت ہندوستان کے ہی ہر ایک صوبہ میں ہماری جماعت نہیں ہے بلکہ سیلون ،افغانستان ،ایران ،عراق ،عرب ،روس،ماریشس ،نٹیال ،ایسٹ فریقہ ،مصر، سیرالیون، گولڈ کوسٹ ،نائیجریا، یونائٹیڈ سٹیٹس اور خود انگلستان میں ہماری جماعت موجود ہے اور ہمارا اندازہ ہے کہ دُنیا میں نصف ملین کے قریب لوگ اس جماعت میں شامل ہیں اور یہی نہیں کہ صرف مختلف ممالک کے ہندوستانی ساکنین ہی اس جماعت میں شامل ہیں بلکہ خود ان ممالک کے رہنے والے اس جماعت میں شامل ہورہے ہیں۔چنانچہ لنڈن کے علاقہ پٹنی میں ہمارا مشن قائم ہے اور ایک مسجد بھی ہے اور انگلستان کے قریباً دو سو آدمی اس سلسلہ میں شامل ہوچکے ہیں اور اسی طرح یونائٹیڈسٹیٹس کے لوگوں میں بھی یہ سلسلہ پھیل رہا ہے اور ہم لوگ یقین رکھتے ہیں کہ ایک وقت یہ سلسلہ سب جنان میں پھیل جائے گا۔حضور عالی! ان مختصر حالات کے بتانے کے بعد ہم جناب کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہماری وفاداری جناب کے والد مکرم سے کسی دنیاوی اصل پر نہیں ہے اور نہ کوئی دنیاوی طمع ا س کا موجب ہے۔جو خدمات گورنمنٹ کی بحیثیت جماعت ہم کرتے ہیں اسکے بدلہ میں کبھی کسی بدلہ کے طالب نہیں ہوئے ہماری وفاداری کا موجب ایک اسلامی حکم ہے جس کے متعلق بانئی سلسلہ ٔ نے ہمیں سخت تاکید کی ہے کہ کبھی اسے نظر انداز نہ ہونے دیں اور وہ یہ حکم ہے کو جو حکومت ہمیں مذہبی آزادی دے اس کی ہمیں ہر حالت میں فرمانبرداری کرنی چاہئے اور اگر کوئی حکومت ہمارے مزہبی فرائض میں دست اندازی کرے تو بجائے اس کے ملک میں فساد ڈلوانے کے اس کے ملک سے ہمیں نکل جانا چاہئے۔ہمارے تجربہ نے ہمیں بتا دیا ہے کہ تخت برطانیہ کے زیر سایہ ہمیںہر قسم کی مذہبی آزادی حاصل ہے حتّٰی کہ اکثر اسلامی کہلائے والے ملکوں میں ہم اپنے مذہب کی تبلیغ نہیں کرسکتے مگر