انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 530 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 530

انوار العلوم جلد 4 ۵۳۰ تحفه شهزاده و بلیز دل محسوس کرتے ہیں کہ خدا کی برکتیں ان سے چھین لی گئی ہیں تو پھر اسے شہزادہ ! آپ سمجھ لیں کہ خدا نے مسیحیت کو چھوڑ دیا ہے اور اسلام کے ساتھ اپنی رحمتیں مخصوص کر دی ہیں۔ آخر میں اسے مکرم شہزادہ بائیں آپ سے التجا کرتا ہوں کہ جس محبت سے خدا کی بادشاہت کی خبر ہم نے آپ کو دی ہے اسی محبت سے آپ اس تمام امر پر غور کریں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں جیسے ہم ہیں ویسے ہی آپ ہیں۔ اس کی نظروں میں چھوٹے اور بڑے بادشاہ اور رعایا سب برابر ہیں۔ ابدی زندگی کے ہم ہی محتاج نہیں بلکہ آپ بھی اس کے محتاج ہیں اور خدا کی رضا کی ہم ہی کو ضرورت نہیں بلکہ آپ کو بھی ہے ۔ دنیا کی بادشاہتیں فانی ہیں اور اس کی عربی آئی۔ وہی دائمی خوشی کا وارث ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو خوش کرتا ہے ہم نے حق آپ کے سامنے پیش کر دیا ہے اس کا قبول کرنا یا نہ کرنا آپ کے اختیار میں ہے ۔ مگر ہم آپ سے با ادب التجا کرتے ہیں کہ آپ اسلام کے متعلق سنی سنائی باتوں پر نہ جائیں اور دشمن کے اقوال پر اپنے خیالات کی بناء نہ رکھیں۔ اسلام ایک پاک اور بے عیب مذہب ہے اور اس کی تعلیم پر چلنے والے ہمیشہ اچھے سے اچھے پھل کھاتے اور خدا تعالیٰ کی عنایتوں اور شفقتوں سے حصہ لیتے رہتے ہیں۔ ہے؟ اس وقت دنیا گناہ سے بھر گئی ہے اور نافرمانی اور بغاوت پھیل گئی ہے۔ اس لئے خدا تعالیٰ کا غضب بھڑک رہا ہے اب وہ دنیا کو اپنا چہ دکھانا چاہتا ہے اور اس سے اپنا وجود منوانا چاہتا ہے دنیا نے شرک کے راستہ پر بڑھ بڑھ کر قدم مارا اور انکار پر اصرار کیا اور خدا کے کلام کی تنگ کی اور اس کی ملاقات کے خیال کو دل بھلا دیا اور قیامت کو ہنسی ٹھٹھا سمجھا اور مادیت کا زنگ اس کے دل پر لگ گیا اور لوگوں نے خیال کیا کہ اس کے انبیاء محض طلیق اللسان انسان تھے جنہوں نے لوگوں کو حدود کے اندر رکھنے کے لئے مذہب کی روک بنادی تھی اور وہ خیال کرنے لگی ہے کہ وہ خدا کوبھی سبق پڑھا سکتی ہے اور اس کے کلام پر بھی حکومت کر سکتی ہے ۔ ۔ عیاشی بڑھ گی ہے ور دنیا کی سب دلوں میں گر کرگئی ہے۔ ایک از انسان کو علاقائی محبت کا شریک قرار دیا جاتا ہے اور اس سزا کو جو مسلمانوں کو اسلام کی طرف سے منہ پھیر لینے کی وجہ سے مل رہی تھی اپنی سچائی کی علامت سمجھا جارہا ہے اور کروڑوں روپیہ اس لئے خرچ کیا جارہا ہے که تا لوگ ایک خدا کی پرستش چھوڑ دیں ۔ خدا تعالیٰ نے ان باتوں پر ایک لمبے عرصہ تک صبر کیا اور جب لوگ اس کے پچھلے کلام سے فائدہ اُٹھانے کی طرف متوجہ نہ ہوئے تو اس نے اپنا موعود نہ اپنا رسول بھیجا تا کہ اس کی باتوں سے لوگ متاثر ہوں اور اس کے ہاتھ پر نشان پر نشان اور معجزہ پر معجزہ