انوارالعلوم (جلد 6) — Page 526
انوار العلوم جلد 4 ۵۲۶ تحفه شهزاده ویلیز مگر آنے والا بھی نہیں آیا کیونکہ وہ جو آچکا دوبارہ کیونکر آئے ؟ قیامت تک وہ لوگ انتظار کرتے چلے جائیں گے اور کوئی ایلیاء آسمان سے نازل نہ ہوگا اور نہ کوئی مسیح آئے گا اور وہ اپنی ضد کی وجہ سے آسمان کی بادشاہت سے ہمیشہ کے لئے محروم رہیں گے ۔ اسی طرح اگر مسیحی ضد کریں گے اور آسمانی نشانوں کو رد کریں گے اور ان سے آنکھیں بند کر لیں گے تو ان کے لئے بھی قیامت تک انتظار کرنا ہو گا جو آنے والے تھے آچکے۔ وہ بھی آگیا جسے خدا کے نام پر آنا تھا اور جس نے موسی کی طرح شریعت کا کلام یا نا تھا اور وہ بھی آپکا جس نے مسیح کا نام پا کر آنا تھا اور روح حق کی تصدیق کرنی تھی اور اس کے مقصد کی اشاعت کرنی تھی۔ اب ان کے بعد نہ کوئی تسلی دہندہ آئے گا اور نہ کوئی مشیح قیامت تک لوگ انتظار کرتے چلے جائیں سوائے انتظار کی تلخی کے ان کو کچھ نہ ملے گا۔ آنیوالے نے جیسا کہ لکھا تھا مسیح کا نام پاکر آنا تھا نہ کہ خود مسیح نے اور اس کی بعثت اسی طرح ہوئی تھی جس طرح یوحنا بپتسمہ دینے والے کی ایلیاء کے رنگ میں ہوئی۔ اے شہزادہ عالی قدر ! جب کوئی بات دلائل سے ثابت ہو جائے تو شک و شبہ سے اس کو باطل کرنا خود اپنا نقصان کرنا ہوتا ہے لوگ چاہتے ہیں کہ اسلام کی شکل کو مسلمانوں کے اعمال یا موجودہ خیالات سے بد نما کر کے دکھائیں ۔ لیکن جب قرآن کریم خود موجود ہے ، جب رسول اسلام کے اپنے منہ کے الفاظ موجود ہیں تو پھر لوگوں کی باتوں کی طرف جانے کی ہمیں کیا ضرورت ہے ؟ کیا سورج کی موجودگی میں ہم لوگوں سے اس کے وجود کی تشریح پوچھا کرتے ہیں؟ یا چاند کے ہوتے ہوئے اس کی روشنی کی کیفیت روایت سے ثابت کیا کرتے ہیں؟ قرآن کریم کی تعلیم جیسا کہمیں پہلے مختصراً بیان کر چکا ہوں ایسی ہے کہ کوئی کتاب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی ۔ وہ اپنی خوبی میں سورج کی طرح چمکتی ہیے اور اس کے مقابلہ میں سب تعلیمیں ماند پڑ جاتی ہیں ۔ نہ اس لئے کہ ان نبیوں نے وہ تعلیمیں اپنی طرف سے بنائی تھیں بلکہ اس لئے کہ وہ یا تو خاص وقتوں کے لئے تھیں یا بعد میں لوگوں نے ان میں اپنے خیالات ملا کر ان کو بگاڑ دیا ہے لیکن قرآن کریم کی تعلیم ہر زمانہ کے لئے ہے اور عمل ہے۔ اس میں نہ ایک شعشہ کی تبدیلی کی ضرورت ہے اور نہ گنجائش ہے اور نہ اس کی تعلیم میں انسان کے ہاتھوں نے کوئی تبدیلی پیدا کی ہے۔ اے شہزادہ بلند اقبال ! آپ دیکھیں کہ کسی طرح لوگوں نے خدا کے نوشتوں کو بگاڑ دیا ہے وہ نبی جو اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے جلال کے قیام کے لئے آیا تھا۔ اس کی نسبت کہا جاتا ہے کہ وہ واقع میں خدا کا بیٹا ہونے کا مدعی تھا اور یہ کہ خدا کے ساتھ میں اور روح القدس بھی الوہیت