انوارالعلوم (جلد 6) — Page 525
دنیا کی اصلاح کے لئے آپ ؑکی ذریت اور آپ کی نسل میں سے ایک شخص کو کھڑا کرے گا۔جو آپؑ کے کام کو تکمیل تک پہنچائے گا اور یہ بھی کہ بادشاہ اور امیر آپ پر ایمان لائیں گے اور اسقدر اخلاص ان میں پیدا ہوگا کہ وہ آپؑ کےکپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے اور یہ بھی کہ جو بادشاہتیں آپ کی جماعت کی ترقی میں روک ہوں گی اور آپ کے دامن سے اپنے آپ کو وابستہ کرنا پسند نہ کریں گی وہ کاٹی جائیں گی اوران کا نام صفحۂ ہستی سے مٹا دیا جائے گا اور یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ آپ کے ذریعے سے دنیا میں عدل اور انصاف اور محبت کو قائم کرے گا اور خدا تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان ایک نہ ٹوٹنے والا رشتہ قائم ہوگا اور لوگ اپنی سرکشیوں سے باز آجائیں گے اور نیکی اور تقویٰ کا زمانہ دُنیا میں جاری ہوگا اور انسان اپنی پیدائش کے مقصدکو پالے گا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی غرض پوری ہوگی جو اس مرتبت کا رسول کہ آپؐ باوجود اس شان کے جو خدا نے آپ ؐکو دی اور جو دُنیا نے اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کی اورا ٓئندہ کرے گی اس کے غلام اور اس کے شاگرد ہیں۔سو مبارک ہیں وہ جو ان نشانات سے جو پورے ہوچکے فائدہ اُٹھاتے ہیں اور خدا سے صلح کرکے اس کے غضب سے محفوظ ہوتے ہیں۔دعوت الی الاسلام اےشہزادۂ بالا بخت ! آخر میں ہم آپ کو اس امر کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ کوئی عزت نہیں مگر وہی جو خدا سے ملے اور کوئی رُتبہ نہیں مگر جو اللہ تعالیٰ دے اور کوئی سُکھ نہیں مگر جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہو۔پس ہم آپ کو اس صداقت کے قیام اور جس کے پورا کرنے کے لئے اس نے اس وقت مسیح موعودؑکو نازل کیا ہے۔بیشک مسیحی اقوام کے لئے یہ نہایت تلخ ہے کہ وہ انیس سو سال تک انتظار کرنے کے بعد مسیح کے وجود کو دوسرے کسی مذہب کےپیروئوں میں پائیں اور ان کی حمیّیت اور غیرت کو اس سے صدمہ پہنچتا ہے۔مگر مبارک وہی ہے کہ جو خدا کی مرضی کو قبول کرے اور اس کی حکمتوں پر اعتراض نہ کرے اور اپنی عزت اور اپنی غیرت اوراپنی خواہش پر اسکی رضا کو مقدم کرے کیونکہ اسی کے لئے دائمی نجات ہے اور وہی ابدی خوشی کو پائے گا۔پہلوں نے اپنی غیرت کو خدا کی مرضی پر مقدم کرکے کیا سُکھ پایا کہ آئندہ اور لوگ پائیں گے؟ یہود نے یوحنا کو ایلیاء تسلیم کرنا اپنی روایات کے خلاف سمجھا اور اللہ تعالیٰ کے منشاء کو قبول نہ کیا اور وہ آج تک مسیحؑکے انتظار میں ہیں۔انتظار کا وقت لمبا ہوگیا