انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 509 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 509

آپؑ آرام کس وقت کرتے ہیں؟ ایک ہی دن اورایک ہی فکر تھی کہ دُنیا اپنے پیدا کرنیوالے سے صلح کرے اور نجات حاصل کرے اور اسی دھن میں آپ نےاپنی تمام عمر صر ف کردی۔اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر بعض لوگ خدا کے لئے ایک دفعہ مرے ہیں یا ایک دفعہ صلیب پر چڑھے ہیں تو آپؑان لوگوں میں سے تھے جو خدا تعالیٰ کے لئے روز مرتے تھے کیونکہ اپنے آرام اور اپنی آسائش کا آپ ؑکو بالکل فکر نہ تھا جو کچھ خیال تھا وہ لوگوں کی نجات کا تھا حتّٰی کہ جس دن صبح کو آپ ؑکی وفات ہوئی اس سے پہلے دن کی شام تک آپ تصنیف کے کام میں مشغول رہے پس آپ ؑکی موت بھی لوگوں کے لئے تھی جس طرح آپ کی زندگی لوگوں کے لئے تھی۔وہ مخالف جو آپ ؑکی زندگی میں آپ کو ہر قسم کا دکھ دیتے تھے انہوں نے وفات پر بھی قابلِ شرم حرکات کیں اور سوانگ نکالے اورہنسی اُڑائی مگر جو کچھ آپؑنے خدا سے خبر پاکر پہلے سے کہہ دیا تھا وہ اس میں روک نہ ڈال سکے۔دشمنوں کی تمام خوشیاں دور ہوگئیں۔اور آپ کا سلسلہ آپ کے جانشین اور خلیفہ اوّل حضرت خلیفۃ المسیح مولوی نورالدین صاحب مرحوم و مغفور کی زیر ہدایت آگے سے بھی زیادہ ترقی کے ساتھ پھیلنا شروع ہوگیا اورجب وہ قریباً چھ۶سال بعد ۱۹۱۴ ء میں فوت ہوئے تو مجھ عاجزانہ مرزا بشیر الدین محمود احمد آپ کے ان الہامات کے پورا ہونے کے نئے آثار پیدا کرتا ہے کہ مَیں تیرے نام کو دُنیا کے کناروں تک پھیلا ئوں گے اور تیری جماعت کو بڑھاؤں گا اور اسے شہزادہ مکرم ! زمین و آسمان ٹل جائیں لیکن اس کی یہ باتیں نہ ٹلیں گی کیونکہ وہ اس نے نہیں کیں بلکہ خدا نے کہی ہیں اور خدا کی باتوں کو کئی نہیں ٹال سکتا۔؁؁؁