انوارالعلوم (جلد 6) — Page 503
انوار العلوم جلد 4 ۵۰۳ تحفه شهزاده و بلیز ہو کر گالیاں دینے لگ جاتے جنہیں سن کر آپ خاموش ہو جاتے اور جب ان ان کا جوش ٹھنڈا پڑ جاتا اور وہ تھک جاتے تو پھر اپنی بات سنانے لگ جاتے اور وہ لوگ جو باتیں سنتے حیران ہوتے کہ اے اور او جواب میں نے حیران ہوتے ہو لوگ کیا کہتے تھے اور اصل معاملہ کیا ہے ۔ جہاں جہاں آپ جاتے سینکڑوں اندھے آنکھیں پاتے اور بہرے سننے لگتے اور وہ جن کے جسم مبروص تھے پاک ہوتے اور بیمار شفاء پاتے اور بہت کر دے زندہ ہوتے اور ایسا ہوتا کہ وہ شفایاب اور زندہ ہونے والے؟ اور زندہ ہونے والے پھر اپنے اپنے گا اپنے گھروں کو نہ چلے جاتے بلکہ آپ کے ساتھ ایسے وابستہ ہو جاتے کہ پھر آپ سے جدا نہ ہوتے اور جہاں آپ کا پسینہ گرے وہاں وہ اپنا خون بہانے کے لئے تیار ہو جاتے ۔ کچھ دنوں کے بعد آپ لاہور گئے اور وہاں سے سیالکوٹ اور وہاں سے جالندھر اور ہاں سے لدھیانہ اور پھر واپس قادیان آگئے اور تمام سفروں میں خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچاتے رہے ۔ یہ سفر حضرت مسیح موعود کو اس لئے پیش آنے کا پہلے میچ سے آپ کو مشابہت حاصل ہو جائے جو اس لئے دنیا میں بھیجا گیا تھا تاکہ بنی اسرائیل کی گم شدہ بھیڑوں کو اکٹھا کرے اور ان کی تلاش میں جائے ۔ ورنہ آپ بالعموم قادیان ہی میں رہے اور یہیں سے لوگوں کو تبلیغ کرتے اور کتابوں اور اشتہاروں کے ذریعے باہر کے لوگوں کو پیغام حق پہنچاتے یا اپنے شاگردوں کو باہر بھیجتے تاکہ لوگوں کو خدا کے دین کی طرف بلائیں اور ایسا ہونا ضروری تھا کیونکہ لکھا تھا کہ ابن آدم اپنی دوسری بعثت میں خود نہیں باہر جائے گا تا لوگوں کو بلائے بلکہ وہ :- نرسنگے کے بڑے شور کے ساتھ اپنے فرشتوں کو بھیجے گا اور وے اس کے برگزیدوں کو چاروں طرف سے آسمان کی اس حد سے اس حد تک جمع کریں گے" د منی باب ۲۴ آیت ۲۳ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ ء ) ۱۸۹۳ء میں امرتسر میں مسیحیوں سے آپ کا ایک بڑا مباحثہ ہوا جو پندرہ دن تک ہو دن تک ہوتا رہا اس میں پادریوں نے بعض لنگڑے اور اندھے جمع کئے تاکہ ان کو آپ کے سامنے پیش کر کے کہیں کہ اگر آپ مسیح ہیں تو ان کو اچھا کریں اور اس طرح آپ کو شرمندہ کریں۔ جب وہ لوگ آپ کو دکھائے گئے تو آپ نے کہا کہ اندھوں کو آنکھیں دنیا اور لنگڑوں کو اچھا کرنا ۔ لنگڑوں کو اچھا کرنا تو تمہاری کتب میں لکھا ہے اور وہاں یہ بھی لکھا ہے کہ اگر تم میں رائی کے برابر ایمان ہو تو بیماروں پر ہاتھ رکھ کر کہو کہ اچھے ہو جاؤ تو وہ اچھے ہو جائیں گے۔ پس بہتر ہوا کہ آپ لوگ خود ہی بیمارے آئے ۔ پیسں اب ان کو اچھا کر کے بتائیں تا معلوم ہو کہ آپ کے اندر کم سے کم ایک رائی کے دانہ کے برا بر تو ایمان ہے !