انوارالعلوم (جلد 6) — Page 495
انوار العلوم جلد 4 ۴۹۵ تحفه شهزاده و نمیز اور صرف تمثیلی طور پر خدا کا بیٹا کہلاتا تھا جس طرح اور بعض نبی خدا کہلاتے تھے خدا کا حقیقی بیٹا قرار دیتے ہو اور اس کے لئے عبادت کرتے ہو اور اس سے دُعائیں مانگتے ہو اور اس کی بڑائی اس طرح کرتے ہو جس طرح خدا کی کرنی چاہئے اور پھر ساتھ ہی ساتھ ایک ہی سانس سے یہ بھی کیے جاتے ہو کہ شرک نہ کرو کہ شرک ایک بہت بری چیز ہے اور خدا کی نظروں میں ناپسند۔ اور نہیں ڈرتے کہ اس عظیم الشان گناہ کا کیا نتیجہ نکلے گا ؟ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ خود لیوع میشیح تمہارے خلاف باپ کے سامنے کھڑا ہو گا اور تم پر گواہی دے گا اور تم سے نفرت کا اظہار کرے گا کیونکہ اس نے عمر بھر یہی تعلیم دی کہ تو سب سے زیادہ باپ کی عزت کی اور وہ یہی کہتا رہا کہ علم غیب بھی خدا کو ہے اور سب طاقت بھی خدا کو ہے اور سب نشانات بھی اس کے پاس ہیں اور فیصلہ بھی وہی کرے گا اور مالک بھی وہی ہے اور رازق بھی وہی ہے مگر باوجود اس کے تم نے اس کی باتوں کو رد کیا ۔ تم نے اس سے محبت کر کے دشمنی کی اور پایہ جتا کر مخالفت کا اظہار کیا اور اس کے کہلا کر اس کے عمر بھر کے کام کو تباہ کیا اور پھر تم خویش ہو کہ وہ واپس آکر تمہارے کاموں کا اچھا بدلہ دے گا ۔ اسے نادانو ! اچھا بدلہ نہیں بلکہ وہ تمہیں ملزم کرنے کے لئے آوے گا چنانچہ میں اس کے نام پر اس لئے کھڑا کیا گیا ہوں تا تمہاری غلطیوں پر تمہیں آگاہ کروں اور تمہیں اس عذاب کے دن سے ڈراؤں جس دن آسمان ہلائے جاویں گے اور زمین جنبش کھائیگی اور ہر ایک انسانی صنعت جس پر وہ فخر کرتا تھا اور اسے اچھا سمجھتا تھا اپنے بنانے والے کے لئے ہلاکت کا موجب ہوگی اور انسان اپنے ہاتھوں کی محنت سے مارا جائے گا اور اپنی انگلیوں کی صنعت سے قتل کیا جائے گا اور جس پر وہ فخر کرتا تھا وہی اس کو اس کی قبر میں دھکیلے گی۔ پس وقت سے پہلے ہوشیار ہو جاؤ اور اس گھڑی کے آنے سے پہلے توبہ کرلو اور اس کو قبول کر لو جس کی اپنی پہلی بعثت میں مسیح نے خبر دی اور اب اپنی دوسری بعثت میں وہ تمہیں اس کی طرف بلاتا ہے ۔ اگر تم اس کو قبول کر لو گے تو میں تمہارا اپنے باپ کے پاس گواہ ہوں گا اور تمہاری راستبازی گے؟ کو اس پر ظاہر کروں گا اور تم اس کی رضا کو پاؤ گے اور اس کی رحمت کے کاموں کو محسوس کرو گے ۔ تم کہتے ہو کہ مسیح صلیب پر لٹک کر فوت ہو گیا اور اس طرح اس کو جو بے گناہ تھا لعنتی قرار دیتے ہو اور جو تمہارے لئے دُکھ اُٹھاتا تھا اسے لوگوں کی نظروں میں حقیر قرار دیتے ہو کیونکہ مقدس نوشتوں میں لکھا تھا کہ جو صلیب پر لٹک کر مرتا وہ لعنتی اور جھوٹا نبی ہوتا ہے۔ پس تم اپنے