انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 493 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 493

انوار العلوم جلد 4 ۴۹۳ شخصه شهزاده ویلیز کے مطابق سچی قسم تو کھا سکتا ہے کیونکہ دنیا کے کاروبایہ کو درست طور پر چلانے کے لئے قسم بھی ایک ضروری شئے ہے اور حکومتوں کے بہت سے کام قسم کے ذریعے ہی چلتے ہیں ۔ تم سے کہا گیا تھا کہ ظالم کا مقابلہ نہ کر نگر میں تم سے اسلام کی تعلیم کے مطابق کہتا ہوں کہ ہر جگہ ہر ظالم کا مقابلہ نہ کرنا درست نہیں بلکہ اصل تعلیم میں ہے کہ ہر ایک بدی کا بدلہ اس کے مطابق ہے ۔ ہاں جس جگہ بدی کے معاف کر دینے سے بدکار کی اصلاح کی اُمید ہو یا اور کوئی ایسا فائدہ مترتب ہوتا ہو جو بد کار کو سزا دینے سے زیادہ ہے تو تب تو معاف کر اور سزا نہ دے نہ دے کیونکہ اس صورت میں اگر تو مرا دیگا تو بدی کو پھیلانے والا ہو گا نہ اس کو مٹانے والا ۔ تم سے کہا گیا تھا کہ اپنے دشمن سے پیار کرو مگر میں تمہیں اسلام کی تعلیم کے مطابق کہتا ہوں کہ تو اپنی نفسانیت کی وجہ سے کسی کا دشمن نہ ہو اور نہ اپنی نفسانیت کی وجہ سے کسی کو اپنا دشمن بننے کا موقع دے اور چاہئے کہ تیرا دشمن ہونا صرف خدا اور اس کے رسول اور اس کی کتاب کی وجہ سے ہو اور اس صورت میں بھی گو تو اس کے لئے دعا کرے اور اس کے لئے ہدایت طلب کرے مگر یاد رکھ کہ اس کے فعل سے پیار نہ کر اور اس کو ایک آنکھ سے پسند نہ کر بلکہ چاہئے کہ جسقدر جلد ہو سکے اس کو مٹا اور دنیا کو بدی سے پاک کر کیونکہ بدی کا قائم رہنا نہ صرف تیرے لئے بلکہ اس کے لئے بھی جو بدی کرتا ہے مضر ہے ۔ تجھے چاہئے کہ بد انسان کا خیر خواہ ہوا اور بدی کا دشمن۔ پھر وہ مسیحیوں سے مخاطب ہو کر یوں کہتا کہ اے لوگو جنہوں نے علم کو اپنا شعار بنایا ہے اور محبت کو اپنا لباس تم کیوں منہ سے وہ باتیں کہتے ہو جو کرتے نہیں ؟ کیا فریسی اور فقیسی یہی کام تم سے پہلے نہیں کرتے تھے ؟ اور کیا وہ باوجود موسی اور دوسرے نبیوں پر ایمان لانے کے ہلاک نہیں ہو گئے ؟ پھر تم میں کیا فضیلت ہے کہ صرف منہ کی علیمی اور زبان کی باتوں سے تم خدا کی بادشاہت میں داخل ہو جاؤ ؟ چاہئے کہ جس طرح تم کہتے ہو کر کے بھی دکھاؤ ، تا خدا تمہیں صداقت کی طرف ہدایت کرے اور راستی کو تم پر ظاہر کرے ۔ تم لوگوں کو سناتے ہو کہ اگر کوئی تیرے ایک گال پر تھپٹر سے تو دوسرا بھی اس کے سامنے پھیر دے ے لیکن تمہارا اپنا یہ حال ہے کہ بلا اس کے کہ کوئی تمہاری گال پر تھپڑ مارے تم دوسروں کی گالوں پر تھپڑ مارتے ہو اور اگر کوئی تم پر زیادتی کر تم پر کر بیٹھے تو تم اس وقت تک پیچھا نہیں چھوڑتے جب تک اس کو مٹانہ لوتم چادر مانگنے والے کو گرتا بھی اُتار کر نہیں دیتے بلکہ جس کے جسم پر چادر دیکھتے ہو چاہتے ہو کہ چھین لو بلکہ ساتھ ہی گرتا بھی۔ بارے تو * تم لوگوں سے کہتے ہو کہ اپنے ہمسایوں سے پیار کرو لیکن تمہارا کون سا ہمسایہ ہے جو تم سے