انوارالعلوم (جلد 6) — Page 492
انوار العلوم جلد 4 ہو۔ ۴۹۲ تحفه شهزاده و نیز جھوٹ مت بولو کہ جھوٹ ایک زہر ہے سچ کو اختیار کرو کہ خدا کے حضور میں راستباز ہی مقبول ہیں۔ امانت سے کام لو اور خیانت سے پر ہیز کرد تم سے کہا گیا تھا کہ بد نظری سے کسی عورت کی طرف مت دیکھو مگر میں تمہیں کہتا ہوں کہ اس زمانہ کہ بد سے کی منہ کے سردار محمد مصطفے کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ تو کس نامحرم عورت کو نہ دیکھ خواہ بد نظری سے خواہ توکسی نہ دیکھے نظری نیک نظری سے۔ سوائے اس کے کہ تیری نظر اتفاقی طور پر پڑ جائے کیونکہ دل کے بھی دروازے ہوتے ہیں۔ جس طرح گھروں کے دروازے ہوتے ہیں اور دروازوں کو کھلا چھوڑنا اور چوروں سے ہیں اور کو کھلی اور مطمئن رہنا نادانی کی بات ہے اور بیوقوفوں کا کام ہے ۔ تم سے کیا گیا تھا کہ اسقدر شراب نہ پیٹو کہ مست ہو جاؤ مگر میں تم سے کہتا ہوں کہ نبوت کے سردار کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ تم میں سے کوئی شراب نہ پینے نہ مست ہونے کی حد تک اور نہ اس سے کم کیونکہ شراب ایک زہر ہے جو دماغ کی باریک طاقتوں کو ہلاک کر دیتا اور خدا سے ہم کلامی کی طاقت کو مار دیتا ہے اور وہ ایک اثر رہا ہے جو انسان کو کھینچ کر ایسے علاقوں میں لے جاتا ہے جہاں وہ نہیں جانا چاہتا تھا ۔ تم سے کہا گیا تھا کہ بے سبب غصہ مت ہو۔ مگر راستبازوں کے سردار کو تعلیم دی گئی ہے کہ تو یہی نہ کر کہ بے سبب غصہ مت ہو بلکہ تو دوسروں کو بھی سمجھا کہ بے سبب غصہ نہ ہوں اور لا لوگوں پر رحم کریں کیونکہ اگر یہ بے سبب غصہ نہیں ہوتا تو اپنی جان بچاتا ہے مگر یہ خدا سے ملنا چاہتا ہے تو اس کو چاہئے کہ دوسروں کو بھی بچائے ۔ تم سے کہا گیا تھا کہ عورت کو سوائے زنا کے طلاق نہ دو مگر میں تمہیں اسلام کے مطابق یہ تعلیم سے کیا گیا کہ زنا نہ دونگر دیتا ہوں کہ زنا ہی ایک بدکاری نہیں اس سے اُتر کر اور اس کے علاوہ بھی بہت سی بدکاریاں اور بدیاں ہیں تو ان کی وجہ سے اسے سے بھی جب دیکھے کہ عورت کی اصلاح کسی طرح نہیں ہو سکتی تو اس کو طلاق دے سکتا ہے جیسے اگر کوئی عورت ظالمہ ہے کہ دوسروں کو دکھ دیتی ہے یا بد نظر ہے یا بے حیا ہے یا خائن ہے کہ لوگوں کے حقوق کو دبا لیتی ہے اور باوجود سمجھانے کے باز نہیں آتی اس صورت میں وہ تجھ سے نہیں بلکہ ایک خراب شدہ عضو ہے اگر وہ علاج پذیر نہیں ہوتا تو اس کو کاٹ کر پھینک دیے ۔ میں کہا گیا تھا کہ قسم نہ کھالیکن اسلام کے مطابق تھیں تعلیم دیتا ہوں کہ جھوٹی قسم نہ کھا اور نہ بلا ضرورت قسم کھا اور نہ ان چیزوں کی قسم کھاجنکی قسم کھانا قسم کی عرض کو پورا نہیں کرتا ۔ ہاں ضرورت