انوارالعلوم (جلد 6) — Page 475
نہ ہو یا پورا نہ ہو تو وہ بات خدا وند نے نہیں کہی بلکہ اس نبی نے گستاخی سے کہی ہے۔‘‘ (استثناء باب ۱۸ آیت ۲۲ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پورمطبوعہ ۱۸۷۰ء) مگر جو کچھ برگزیدوں نے کہا تھا وہ حرف بحرف پورا ہوا اور بنی اسرائیل کے بھائیوں یعنی حضرت ابراہیم ؑکے دوسرے بیٹے اسمٰعیل ؑکی اولاد میں سے خدا تعالیٰ نے موسٰی کی مانند ایک نبی برپا کیا جس کےذریعہ سے ہدایت کا باغ بنی اسرائیل سے لے کر مسلمانوں کےسپرد کیا گیا اور وہ جسے راج گیروں نے رد کیا تھا کو نے کا پتھر ہوا جو اس پر گرا یعنی جو اس کے شہر پر جا کر حملہ آور ہوا وہ بھی چکنا چُور ہوا اور جس پر وہ گرا یعنی جس پر اس نے جا کر حملہ کیا وہ بھی ٹکڑے ٹکڑے ہوا اور جس نے اس کی بات نہ سنی اس سے خدا نے اس کا حساب۔اس وجود سے مراد حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہرگز نہیں ہوسکتے کیونکہ وہ خود فرماتے ہیں کہ یہ نبی ان کے صلیب پر لٹکائے جانے کے بعد آئے گا اور نہ کلیسیااس سے مراد ہوسکتا ہے کیونکہ کلیسیا نبی نہیں ہے اور نوشتے بتاتے ہیں کہ وہ آنے والا ایک نبی ہوگا جو موسٰی کی مانند خدا کے جلال کا ظاہر کرنے والا ہوگا اور شریعت اس کےداہنے ہاتھ میں ہوگی اور وہ مکّہ کی پہاڑیوں پر سے جو فاران کہلاتی ہیں دس ہزار قدوسیوں سمیت خدا کی دشمنوں پر حملہ آور ہوگا۔جیسا کہ لکھا ہے کہ :- ’’خداوند سینا سے آیا اور شعیر سے ان پر طلوع ہوا۔فاران ہی کے پہاڑ سے۔وہ جلوہ گر ہوا۔دس ہزار قدسیوں کے ساتھ آیا اورا س کے داہنے ہاتھ ایک آتشی شریعت ان کے لئے تھے۔‘‘ (استثناء باب ۲۳ آیت ۲ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء) کلیسیا نہ نبی ہے نہ فاران سے وہ جلوہ گر ہوئی اور نہ دس ہزار قدوسیوں سمیت وہ دنیا میں آئی۔یہ فاران سے جلوہ گر ہونےوالا خدا کا مظہر وہی سردار انبیاء سروری کائنات سیّد ولد آدم کامل و اکمل و مکمّل و مکمِّل حامد و احمد و محمّد و محمود وجود تھا جس کی قوم کو اس کے بنو عم نے خدا کی بادشاہت سے ہمیشہ کےلئے محروم قرار دیا اور جسے اس کی قوم کے سرداروں نے ردّی کرکے اپنے میں سے نکال پھینکا مگر آخر وہی کونے کا پتھر ہوا۔اور یا تو صرف ایک ہمراہی سمیت اسے مکّہ چھوڑ کر وطن سے بے وطن ہونا پڑا تھا یا اسے خدا نے وہ ترقی دی کہ جب اس کو اور اس پر ایمان لانے والوں کو مٹانے کے لئے اور نیست و نابود کرنےکے لئے اس کی قوم کے لوگ دو سو میل کا فاصلہ طے کرکے ایک زبردست شکر کے ساتھ اس پر حملہ آور ہوئے تو جیسا کہ مسیح علیہ السلام نےفرمایا تھا