انوارالعلوم (جلد 6) — Page 476
اس مظہر شان خدا پر جو گرا وہ پاش پاش ہوگیا ایک قلیل اور بے سامان جماعت کے ہاتھوں سے تجربہ کار جرنیلوں کو اللہ تعالیٰ نے شکست دلوائی اور ذلیل کروایا اورپھر جب بار بار کے عفو کے بعد بھی اس کےدشمن باز نہ آئے اور معاہدہ پر معاہدہ کرکےتوڑنے لگے تو خدا تعالیٰ نے یہ دکھانے کیلئے کہ اس کی فتوحات اسی وجہ سے نہیں ہیں کہ وہ اپنے گھر کے قریب ہوتا ہے اور اس کے دشمن ایک لمبا سفر کرکے اپنے گھروں سے دور اس سے لڑنے آتے ہین بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اور اس کی تائید سے ہیں اس کو حکم دیا کہ وہ خود دشمن کے قلعوں پر حملہ کرے اور وہ جسطرح گیا فتح و ظفر نےاس کی رکابوں کو آکر تھام لیا اور دشمن اپنے گھروں میں بھی اس کا مقابلہ نہ کرسکا اور حضرت مسیح ؑکے کلام کا دوسرا پہلو پورا ہوأ کہ وہ جس پر گرا اسے اس نے چکنا چور کردیا۔یہ فاران سے دس ہزار قدوسیوں سمیت آنے والا آتشی شریعت اپنے داہنے ہاتھ میں رکھنے والا جس کےذریعہ سے نفس کے تما م گند جل جاتے ہیں اور جو کھوٹے دلوں کو صاف کرکے کھرا سونا بنا دیتی ہے جس کی نسبت مسیح علیہ السلام کہتے ہیں کہ:- ’’میری اور بہت سی باتیں ہیں کہ مَیں تمہیں کہوں پر اب تم ان کی برداشت نہیں کرسکتے لیکن جب وہ یعنی روح حق آوے تو وہ تمہیں ساری سچائی کی راہ بتا وے گی اسلئے کہ وہ اپنی نہ کہے گی لیکن جو کچھ وہ سنے گی سو کہے گی اور تمہیں آئندہ کی خبریں دے گی۔‘‘ (یوحنا باب ۱۶ آیت ۱۲،۱۳نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء) وہ جس کی غلامی پر انبیاء ؑکو بھی فخر ہے وہ ہی بانی اسلام مثیل موسیٰ ؑمگر موسٰی سے اپنی تمام شان میں بالا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جنھیں آج دُنیا میں ظالم اور بٹ مار کہا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس نے خونریزی سے سطح زمین کو رنگ دیا اور ایسا ہونا ضرور تھا کیونکہ تمام انبیاء کے مخالفین کے دل ایک ہی سانچے میں ڈھلے ہوئے ہوتے ہیں وہ ہر ایک بات کے دونوں پہلوؤں کو بُرا کہتے ہیں۔’’یوحنا کھاتا پیتا نہیں آیا اور وے کہتے ہیں کہ اس پر ایک دیو ہے۔ابن آدم کھاتا پیتا آیا اور وے کہتے ہیں کہ دیکھو ایک کھاؤ اور شرابی اور محصول لینے والوں اور گنہگاروں کا یار۔‘‘ (متی باب ۱۱ آیت ۱۸،۱۹نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء) مسیحؑ ناصری بِلا تلوار کےآیا اوربِلا کسی گناہ کے صلیب پرلٹکایاگیا اورانہوں نے اس کے سر پر کانٹوں کا تاج رکھا اور صلیب پر لٹکا دیا اور ہنسی سے شور مچایا کہ اے یہودیوں کے بادشاہ