انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 474 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 474

ہے۔آؤ اس کو مار ڈالیں کہ میراث ہماری ہوجائے تب اس کو باغ کے باہر نکال کے مار ڈالا اب باغ کا مالک ان کے ساتھ کیا کرےگا؟ وہ آوے گا اوران باغبانوں کو قتل کرے گا اور باغ اوروں کو سونپے گا۔‘‘(لوقاباب ۲۰ آیت ۹ تا ۱۶)٭ اس تمثیل میں باغ سے مراد وہ ہدایت ہے جو خدا تعالیٰ نے قائم کی اور باغ بنانے والا موسیٰؑ تھا جو خدا تعالیٰ کی صفات کو اپنے اندر جذب کرکے اس کے جلال کے اظہار کے لئے دُنیا میں آیا اور باغ کے باغبانوں سے مراد بنی اسرائیل تھے اور نوکر جو میوہ کو حصہ لینے گئے وہ انبیاءتھے جو موسیٰؑ کے بعد بھیجے گئے اور بیٹا خود حضرت مسیحؑ تھے جو سب کے بعد میں آئے مگر موسٰی کے بعد کے نبیوںؑمیں سے سب سے زیادہ خدا تعالیٰ کے مقرب اور پیارے تھے لیکن بنی اسرائیل نے ان کی بھی قدر نہ کی اوران کو صلیب پر چڑھا دیا تو پھر اس تمثیل کے مطابق ہی ہونا رہ گیا کہ وہ نبی ظاہر ہو جس کا ظہور گویا خدا تعالیٰ کا ظہور تھا اور وہ پچھلی سنت کے برخلاف بنی اسرائیل میں سے نہ ہو بلکہ ان کے بھائیوں یعنی بنی اسمٰعیل میں سے ہو جس کی نسبت حضرت مسیح علیہ السلام کہتے ہیں کہ :- ’’کیا تم نے نوشتوں میں کبھی نہیں پڑھا کہ جس پتھر کو راج گیروں نے پسند کیا وہی کونے کا سِرا ہوا۔یہ خدا وند کی طرف سے ہے اور ہماری نظروں میںعجیب ؟ اس لئے میں تم سے کہتا ہوں کہ خدا کی بادشاہت تم سے لے لی جائے گی اورایک قوم کو جو اس کے میوہ لاوے دی جائے گی۔جو اس پتھر پر گرے گا چُور ہوجائے گاپرجس پر وہ گریگا اسے پیِس ڈالے گا۔‘‘ (متی باب ۲۱ -آیت ۴۲ تا ۴۴ ) اور جس کے حق میں موسٰی نے خبر دی تھی کہ : ’’خداوند نے مجھے کہا کہ انہوں نے جو کچھ کہا سو اچھا کہا مَیں ان کے لئے ان کے بھائیوں میں اسے فرمائوں گا وہ سب ان سے کہے گا اور ایسا ہوگا کہ جو کوئی میری باتوں کو جنھیں وہ میرا نام لے کے کہے گا نہ سُنے گا تو مَیں اس کا حساب اس سے لوں گا۔‘‘ (استثناء باب ۱۸ آیت ۱۷ تا ۱۹ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء) یہ جو نوشتوں میں لکھا گیا اس کا پورا ہونا ضرور تھا ورنہ خدا کے برگزیدوں موسٰی اور مسیح پر جھوٹ کا حرف آتا تھا کیونکہ کہا گیا تھا کہ ’’تُو جان رکھ کہ جب نبی خدا وند کے نام سے کچھ کہے اور وہ جو اس نے کہا ہے واقع