انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 474 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 474

انوار العلوم جلد 4 ۴۶۴ تحفه شهزاده ویلیز ہے ۔ آڈر اس کو مار ڈالیں کہ میراث ہماری ہو جائے تب اس کو باغ کے باہر نکال کے مار ڈالا اب باغ کا مالک ان کے ساتھ کیا کرے گا ؟ وہ آدے گا اور ان باغبانوں کو قتل کرے گا اور باغ اوروں کو سو پنے گا" (لوقا باب ۲۰ آیت و تا ۱۶ ے * < اس تمثیل میں باغ سے مراد وہ ہدایت ہے جو خدا تعالیٰ نے قائم کی اور باغ بنانے والا مونٹی تھا کی جو خدا تعالیٰ کی صفات کو اپنے اندر جذب کر کے اس کے جلال کے اظہار کے لئے دنیا میں آیا اور باغ کے باغبانوں سے مراد بنی اسرائیل تھے اور نوکر جو میوہ کا حصہ لینے گئے وہ انبیاء تھے جومولی کے بعد بھیجے گئے اور بیٹا خود حضرت مسیح تھے جو سب کے بعد میں آئے مگر موسی کے بعد کے نبیوں میں سے سب سے زیادہ خدا تعالیٰ کے مقرب اور پیارے تھے لیکن بنی اسرائیل نے ان کی بھی قدر نہ کی اور ان کو صلیب پر چڑھا دیا تو پھر اس تمثیل کے مطابق ہی ہونا رہ گیا کہ وہ نبی ظاہر ہوجس کا ظہور گویا خدا تعالیٰ کا ظہور تھا اور وہ پچھلی سنت کے برخلاف بنی اسرائیل میں سے نہ ہو بلکہ ان کے بھائیوں یعنی بنی اسمعیل میں سے ہو جس کی نسبت حضرت مسیح علیہ السلام کہتے ہیں کہ :- "کیا تم نے نوشتوں میں کبھی نہیں پڑھا کہ جس پتھر کو راج گیروں نے ناپسند کیا وہی کونے کا سہرا ہوا۔ یہ خداوند کی طرف سے ہے اور ہماری نظروں میں عجیب ؟ اس لئے میں تم سے کہتا ہوں کہ خدا کی بادشاہت تم سے لے لی جائے گی اور ایک قوم کو جو اس کے میوہ لاوے دی جائے گی۔ جو اس پتھر پر گرے گا چور ہو جائے گا پر جس پر وہ گریگا اسے نہیں ڈالے گا۔ امتی باب ۲۱ - آیت ۴۲ تا ۴۴ ) سے اور جس کے حق میں موسی نے خبر دی تھی کہ " خداوند نے مجھے کہا کہ انہوں نے جو کچھ کہا سو اچھا کھا ئیں ان کے لئے ان کے بھائیوں میں سے تجھ سا ایک نبی بر پا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اسے فرماؤں گا وہ سب ان سے کہے گا اور ایسا ہو گا کہ جو کوئی میری باتوں کو جنھیں وہ میرا نام لے کے کہے گا نہ سنے گا تو میں اس کا حساب اس سے لوں گا " استثناء باب ۱۸ آیت ۱۷ تا ۱۹ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء) یہ جو نوشتوں میں لکھا گیا اس کا پورا ہونا ضرور تھا ورنہ خدا کے برگزیدوں موٹی اور میچ پر جھوٹ کا حرف آتا تھا کیونکہ کہا گیا تھا کہ " تو جان رکھ کہ جب نبی خداوند کے نام سے کچھ کہے اور وہ جو اس نے کہا ہے واقع نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء