انوارالعلوم (جلد 6) — Page 455
عامل ہوجائے۔مگر جس طرح طالب علم کی ترقی اس لئے نہیں روکی جاتی کہ اسے ایک ایک نقطہ کیوں یاد نہیں اسی طرح بندہ اگر ایک صفت سے اچھی طرح مناسبت پیدا کرلیتا ہے تو گو اس میں بعض کمزوریاں ابھی ہوں اسے اوپر کی صفت کے حصول کی طاقتیں مل جاتی ہیں اور قلیل غلطیوں کو نظر انداز کردیا جاتا ہے۔اس موقع پر یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ پچھلے مضمون سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو مذکورہ بالا چاروں صفات پر باری باری عمل کرناچاہئے اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تو سیر کا طریق ہے کہ الگ الگ منزلیں بنائی گئی ہیں ورنہ یوں انسان کو ہروقت ہی سب صفات کی مشابہت کی کوشش کرنی چاہئے ہاں ترقی کامل تبھی ہوگی اور اوپر کی صفات پر وہ تبھی پوری طرح کاربند ہوسکے گا جبکہ وہ نیچے کے درجہ کی صفات پر اچھی طرح عمل کرلے گا۔نبی کی بد دعا اور مباہلہ ایک اور سوال ہوسکتا ہے اور وہ یہ کہ جب کہ نبی رب العالمین صفت کے مظہر ہوتے ہیں تو بد عا یا مباہلہ کیوں کرتے ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ نبی خود بخود ایسا کبھی نہیںکرتے بلکہ خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت ایسا کرتے ہیں۔جیسےکہ حدیث میں آتا ہے کہ جب نبی کریم ؐطائف میں گئے اور وہاں کے لوگوںنے آپ کو مارا اور آپ واپس آگئے تو پہاڑ کا فرشتہ آپؐ کے پاس آیا اور کہا اگر حکم ہو تو پہاڑ اکھاڑ کر ان لوگوں پر گرادوں مگر رسول کریم ؐنے فرمایا نہیں اور آپ نے دُعا کی کہ یا اللہ اس قوم کو پتہ نہیں کہ میں کون ہوں اسی طرح کہا یا اللہ ان کو ہلاک نہ کر شاید ان کی اولاد مسلمان ہوجائے۔٭ اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی بعض بد دعائیں تو کی ہی مگر وہ سب خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت تھیں۔مولوی عبدالکریم صاحب سنتاے ہیںکہ رات کو ایک دن حضرت صاحبؑ دعا مانگ رہے تھے مجھے ایسا معلوم ہوا کہ جیسےعورت دردزہ سے رو رہی ہوتی ہے جب مَیں نے غور سے سُنا تو معلوم ہوا کہ حضرت صاحب کی گریہ کی آواز آرہی تھی۔وہ دن طاعون کے تھے آپؑدعا فرمارہے تھے کہ الٰہی ! اگر ساری مخلوق مرگئی تو پھر تجھ پر ایمان کون لائے گا؟ پس جب نبی کہتے ہیں کہ فلاں تباہ ہوجائے تو خدا تعالیٰ کے حکم سے کہتے ہیں اور خدا کے حکم کے ماتحت بد دعا کرتے ہیں۔پھر سوال ہوتا ہے کہ بد دعا تو خدا کے حکم سے کرتے ہیں مگر مباہلہ کیوں کیا جاتا ہے؟ اسکے لئے یاد رکھنا چاہئے کہ مباہلہ اس لئے کیا جاتا ہے کہ جس کو مباہلہ کے لئے بلایا جاتا ہے وہ گمراہی میں *بخاری کتاب بدء الوحی باب اذا قال احدکم امین۔۔۔۔