انوارالعلوم (جلد 6) — Page 454
اس کے کہ وہ آپؐ کا کامل ظل ہے آپ کےنُور کو حاصل کرکے ظلّی طور پر اس مقام کا مظہر ہے اور یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ کو الہام ہوا کہ مجھ پر ایمان لائے بغیرکوئی خدا تک نہیں پہنچ سکتا۔گویا رسول کریم ؐکی اتباع کا صحیح راستہ آپ کو ہی معلوم تھا اور کسی کو نہیں آپ بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کے لوگوں کے لئے راہنما تھے کیونکہ مقام محمدؐی کی ترقی کا آخری نقطہ آپ تھے اور درمیانی اولیاؒء اُمّت محمدیہ کو آپ ہی کے نقطہ کی طرف لارہے تھے اور آپ پہلی قوموں کے لئے اس لئے بھی تربیت کرنے والے ہیں کہ آپ کے ہاتھ پر ہی اللہ تعالیٰ نے سب نبیوں کی پیشگوئیوں پورا کرکے ان کی سچائیوں کو ظاہر کیا اور آپ ہی کےذریعہ سے سب دنیا کے نبیوں کی تصدیق کرائی اور تعصب قومی کو دُور کرایا گیا آپ ہی نے کرشن اور رام چندر کی صداقت کو ظاہر کیا جس طرح کہ دوسرے نبیوں کی صداقت کو آپ نے ظاہر کیا۔گو یہ اس وجہ سے آپ پر کُفر کافتویٰ بھی لگا لیکن جو کچھ ہے ظلّی ہے ورنہ حقیقی طور پر جو شخص اگلوں پچھلوں پر روشنی ڈالتا ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ہی ہے۔جو شخص اس مقام پر پہنچ جاتا ہے اس پر اس مقام کی نسبت سے رب العالمین کی صفت نازل ہوتی ہے اور وہ اس طرح کہ تب یہی عالمین قرار دیدیا جاتا ہے اور خدا اس کا رب ہوجاتا ہے۔جو شخص اس سے تعلق کرتا ہے خدا تعالیٰ کا کامل ربوبیت کا وہی مستحق ہوتا ہےاور جو اس سے قطع تعلق کرے وہ گویا خدا کے عالموں میں سے نکل جاتا ہے یعنی اس کی کامل ربوبیت نہیں ہوتی اور اس نکتہ میں کفر اور اسلام کا راز مضمر ہے۔انتہائی مدارج گو مَیں نے یہ بتایا ہے کہ اس صفت کے کامل مظہر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں مگر یہ بات نہیں کہ اور کوئی اس کا مظہر نہیں ہے بلکہ حق یہ ہے کہ سب نبی ہی اس مقام پر پہنچے ہوئے ہیں ہاں سب کے درجے الگ الگ ہیں کوئی زیادہ پُرجلال مظہر ہے کوئی کم۔ان مدارج کو طے کرنے کا علم کس طرح ہو اب یہ بات رہی کہ کس طرح معلوم ہو کہ انسان نے ان مدارج کو طے کر لیا ؟ اس کے لئے یادر کھنا چاہئے کہ جس طرح مدرسہ میں پڑھنے والے طالب علموں کو اپنی جماعت سے اوپر کی جماعت میں ترقی تب ملتی ہے جب وہ اس جماعت کے مضامین کو جس میں وہ ہوں اچھی طرح یاد کرلیں اسی طرح وہی شخص اگلی صفت کی طرف ترقی کرسکتا ہے جبکہ وہ پچھلی صفت پر اچھی طرح