انوارالعلوم (جلد 6) — Page 451
انوار العلوم جلد 4 ۴۵۱ ہستی باری تعالی بندہ کا درجہ رحمانیت پانا جب خدا تعالیٰ کی صفت رحیمیت انسان کی صفت حمیت سے ملتی ہے تو اس میں اور نئی زندگی پیدا ہو جاتی ہے اور وہ گویا پھر ایک روحانی جنم لیتا ہے اور رحمانیت کے مقام تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے رحمانیت کے معنی ہیں کہ کسی نے کچھ کام نہ بھی کیا ہو تو بھی اس سے نیک سلوک کرنا ۔ جیسے خدا تعالیٰ نے سورج، چاند ، زمین ، آسمان ، ہوا، پانی پیدا کئے ہیں یہ انسان کے کسی عمل کے نتیجہ میں نہیں ہیں بلکہ اگر یہ نہ ہوتے تو انسان زندہ ہی نہیں رہ سکتا ۔ بندہ کا تیسرا مقام اسی صفت کا حصول ہے اور وہ اس طرح کہ یہ پہلے تو صرف ان لوگوں سے حسن سلوک کرتا تھا جو اس کا کام کرتے تھے اب یہ کوشش کرتا ہے کہ جن سے اس کو کوئی بھی فائدہ نہیں ان سے بھی نیک سلوک کرے ۔ اس صفت کا حصول بھی غریب امیر سب کے لئے ممکن ہے۔ قادیان میں ایک مخلص نابینا تھے حافظ معین الدین ان کا نام تھا انہیں اتنا تو کل حاصل تھا کہ کسی کو کم ہی ہو گا غریب آدمی تھے ۔ لنگر خانہ کی روٹی پران کا گزارہ تھا اور لوگ انہیں نا بینا سمجھ کر کبھی کبھی کچھ مدد کر دیتے تھے وہ با وجود نا بینا ہونے کے ادھر ادھر پتہ لگاتے رہتے تھے کہ کسی کے گھر فاقہ تو نہیں یا اور کوئی تکلیف تو نہیں ؟ اور اگر کوئی تکلیف زدہ انہیں معلوم ہوتا تو اپنی روٹی لے جا کر اسے دے آتے ۔ یا اگر ان کے پاس پیسے ہوتے تو وہ دے دیتے ۔ ان کے اس قسم کے بہت سے واقعات مجھے معلوم ہیں۔ پس اس صفت کی مثابت پیدا کرنے کے لئے یہ ضروری نہیں کہ کوئی مالدار ہی ہو غرباء بھی اپنے ذرائع کے مطابق رحمایت کا جامہ پہن سکتے ہیں اور بغیر کسی پھیلی خدمت کے صلہ یا آئندہ کی اُمید کے نیکی کر سکتے ہیں مثلاً ایک شخص مدرسہ میں ملازم ہے اگر وہ کہے کہ میں اپنے سارے وقت کے پیسے ہی وصول کروں تو یہ رحمانیت نہیں ہو گی ۔ جیسے مدرسہ والے عام طور پر کرتے ہیں کہ ملازمت کے وقت سے باہر بھی کسی غریب کو مفت نہیں پڑھا سکتے ۔ رحمانیت یہ ہے کہ جبکہ اپنے وقت کے ایک حصہ میں وہ اپنی معیشت کا سامان پیدا کر لیتے ہیں تو دوسرے وقت میں وہ بعض غرباء کو بغیر صلہ کی امید کے نفع پہنچا دیں ۔ ایک عالم اسی طریق پر اپنے علم کو خرچ کرے ۔ ایک مالدار اپنا مال خرچ کرے اور یہ سمجھے کہ میں تو ایک سوراخ کے طور پر ہوں جس میں سے خدا ہاتھ ڈال کر دوسرے لوگوں کو دے رہا ہے۔ جو لوگ اس مقام پر پہنچ جائیں ان پر خدا کا فیضان پھر تیسری بارہ نازل ہوتا ہے اور اس دفعہ خدا کی رحمانیت ان کے لئے ظاہر ہوتی ہے ۔